Bharat Express DD Free Dish

Hijab Controversy, Mayawati advised to Nitish Kumar: ’ذاتی طور پر مداخلت کرکے معافی مانگیں نتیش کمار‘ مسلم خاتون ڈاکٹر کے حجاب کھینچے کے معاملے پر مایاوتی  کی بہار کے وزیر اعلیٰ کو نصیحت

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ذریعہ خاتون کا حجاب کھینچنے کے معاملے پر بی ایس پی سپریمو اور یو پی کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نےاپنی سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نتیش کمار سے فوری طور پر معافی کی نصیحت کی ہے۔

بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر کئی اہم مسائل پر کھل کر رائے دی۔ انہوں نے خواتین کی حفاظت و احترام، پولیس کی شائستگی، کسانوں کے مسائل اور ملک کی خراب ہوتی ہوئی خارجہ پالیسی پر حکومتوں کو آئینہ دکھایا۔بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ذریعہ تقرری کے خط دیتے وقت خاتون ڈاکٹر کا حجاب ہٹانے کے واقعے پر مایاوتی نے کہا کہ یہ خواتین کے احترام سے منسلک ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزراء کے بیانات سے معاملہ مزید خراب ہو رہا ہے۔انہوں  نے کہا کہ نتیش کمار کو اس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے معافی مانگ لینی چاہیے اور معاملے کو زیادہ طول نہ دیا جائے۔

وزیر اعلیٰ نتیش کو مشورہ

مایاوتی نے مشورہ دیا کہ وزیر اعلیٰ کو ذاتی طور پر مداخلت کر کے معافی مانگنی چاہیے اور اس تنازع کو یہیں ختم کرنا چاہیے، تاکہ خواتین کا احترام برقرار رہے۔ دوسری جانب اس معاملے میں مختلف مقامات پر نتیش کمار کے خلاف شکایات بھی درج کرائی گئیں۔ جموں و کشمیر کی پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی نے ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے ساتھ باضابطہ شکایت درج کرائی۔ مذہبی لیڈروں نے بھی اس واقعے پر تنقید کی۔

حجاب تنازع پر احتجاج

پٹنہ میں بائیں بازو کی جماعت مالے کی خواتین ونگ، آل انڈیا پروگریسو ویمنس ایسوسی ایشن (ایپوا) نے احتجاجی دھرنا دیا۔ تنظیم نے اعلان کیا کہ اگر وزیر اعلیٰ معافی نہیں مانگتے تو وہ عدالتی راستہ اختیار کریں گی۔ وہیں راجستھان کے جے پور میں برقعہ پہننے والی مسلم خواتین نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حجاب کھینچنا سراسر غلط ہے اور اسلام میں حجاب کو ایک اہم فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ یوں حجاب تنازع نے جہاں سیاسی اور سماجی بحث کو جنم دیا، وہیں اب نُصرت پروین کے ملازمت جوائن کرنے کے فیصلے سے معاملے میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read