نئی دہلی: الیکٹرانکس اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے میٹا کے سی ای اومارک زکربرگ کوخط لکھ کرتین دن کے اندرمعافی مانگنے کوکہا ہے۔ یہ خط 3 اگست کوہونے والی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی میٹنگ کے حوالے سے بھیجا گیا ہے۔ معاملہ وزیراعظم نریندرمودی کے طلبہ سے متعلق ویڈیوپیغام کوفیس بک سے ہٹائے جانے سے جڑا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگرمارک زکربرگ نے مقررہ مدت میں معافی نہیں مانگی توان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پارلیمانی کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 79(3) کے تحت میٹا کوحاصل سیف ہاربر (Safe Harbour) تحفظ واپس لینے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کوحاصل قانونی تحفظ ختم کرنے اورمارک زکربرگ کے خلاف پبلشرکے طورپرکارروائی کرنے پربھی غورکیا جائے گا۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے کہا کہ انہوں نے آئی ٹی وزارت اوروزارت داخلہ کوخط لکھ کرکہا ہے کہ وزیراعظم کا ویڈیوہٹانا کسی انٹرمیڈیری کی نہیں بلکہ پبلشرکی ذمہ داری تھی۔ ان کے مطابق مارک زکربرگ کوتین دن کے اندرمعافی مانگنی چاہئے، ورنہ میٹا کوحاصل سیف ہاربرکی سہولت واپس لے لی جائے گی۔
#WATCH | Delhi: BJP MP Nishikant Dubey says, “…We wrote to the Ministry of IT and the Ministry of Home Affairs stating that deleting the Prime Minister’s video was not the responsibility of an intermediary but that of a publisher. Therefore, Mark Zuckerberg must apologize… pic.twitter.com/TlQ9vUIH11
— ANI (@ANI) August 5, 2026
نشی کانت دوبے نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اس قانونی تحفظ کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پلیٹ فارموں پرقابل اعتراض زبان، تشدد اورنامناسب مواد کی بھرمار ہے۔ اگرایسے مواد سے متاثرہرشخص میٹا کے سربراہ کے خلاف ایف آئی آردرج کرائے توملک بھرمیں مقدمات کی تعداد بہت بڑھ سکتی ہے اورذمہ دارافراد کوقانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دراصل وزیراعظم نریندرمودی نے نیٹ پیپرلیک معاملے پرایک سیلفی ویڈیوجاری کیا تھا، جس میں انہوں نے امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔ یہ ان کا پہلا سیلفی ویڈیوتھا۔ تاہم میٹا نے اسے کچھ وقت کے لئے فیس بک سے ہٹا دیا تھا۔ بعد میں میٹا نے اس واقعہ کوتکنیکی خرابی قراردیتے ہوئے حکومت کوبتایا کہ آرٹیفیشیل انٹلی جنس یا مصنوعی ذہانت (اے آئی) پرمبنی خودکارکانٹینٹ ماڈریشن ٹول کی غلطی کی وجہ سے ویڈیوعارضی طورپرہٹ گیا تھا، جس کے بعد اسے دوبارہ بحال کردیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

