Bharat Express DD Free Dish

Manipur’s civil society organizations will meet HM Amit Shah: منی پور کی سول سوسائٹی تنظیمیں کریں گی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات، متعدد مسائل پر ہوگی بات چیت

اس وفد میں شامل تنظیموں میں آل منی پور یونائیٹڈ کلبز آرگنائزیشن، کوآرڈینیٹنگ کمیٹی آن منی پور انٹیگریٹی (COCOMI) اور فیڈریشن آف سول سوسائٹی آرگنائزیشنز شامل ہیں۔

منی پور کی متعدد سول سوسائٹی تنظیموں کا ایک مشترکہ وفد پیر کو نئی دہلی میں وزارت داخلہ کے سینئر حکام سے ملاقات کرے گا تاکہ تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کی حفاظت اور بے گھر ہونے والی برادریوں کی آبادکاری سمیت ان کے کئی مطالبات پر بات چیت کی جا سکے۔ اس ملاقات کے ایجنڈے میں شامل مسائل میں منی پور کی علاقائی سالمیت کا تحفظ، شاہراہوں کو دوبارہ کھولنا، کسانوں اور ان کی کھیتی کی زمینوں کی حفاظت اور ریاست میں 2023 میں پھوٹنے والے نسلی تشدد سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی باز آبادکاری شامل ہیں۔

اس وفد میں شامل تنظیموں میں آل منی پور یونائیٹڈ کلبز آرگنائزیشن، کوآرڈینیٹنگ کمیٹی آن منی پور انٹیگریٹی (COCOMI) اور فیڈریشن آف سول سوسائٹی آرگنائزیشنز شامل ہیں۔ دی نیو انڈین ایکسپریس نے COCOMI کے کنوینر کھریجم اتھوبا کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ ملاقات مرکز کے ساتھ ان کی سابقہ ​​میٹنگ کا فالو اپ ہوگا۔ تاہم اس بار یہ گروپ مشترکہ طور پر نمائندگی کریں گے۔

وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی کریں گے ملاقات

اتھوبا نے کہا کہ ’’ہم وزارت داخلہ کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔ یہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ ہماری ملاقات کا پیش خیمہ ہوگا۔ وہ تمام معاملات پر حتمی فیصلے کریں گے۔ کل کی میٹنگ اسی کی تیاری ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم کسانوں اور ان کی کھیتی کی زمینوں کی حفاظت، شاہراہوں کو کھولنے، بے گھر لوگوں کی آبادکاری وغیرہ سمیت متعدد مسائل پر بات کریں گے۔‘‘

اتھوبا نے کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے ٹھوس اقدامات کی صورت میں مثبت ردعمل کی توقع کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ نسلی تنازعہ منی پور کی اندرونی تقسیم کا باعث بنا ہے، جس سے میتی اور کوکی برادریوں کے درمیان تعلقات منقطع ہو گئے ہیں۔ اس تنازعے میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک اور 60,000 کے قریب لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان بے گھر افراد کی ایک بڑی تعداد ریاست بھر میں ریلیف کیمپوں میں رہ رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read