Bharat Express DD Free Dish

FIR Against Mahua Moitra: مہوا موئترا کے خلاف چھتیس گڑھ میں درج ہوئی ایف آئی آر، وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف متنازعہ بیان پر جاری ہے سیاسی ہنگامہ

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر نتن نابن نے مہوا موئترہ کے تبصرے کو حکومت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں لیکن وہ عوام کی دعاؤں سے محفوظ ہیں۔

ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا۔ (فائل فوٹو)

چھتیس گڑھ کے رائے پور میں ترنمول کانگریس کی رکن اسمبلی مہوا موئترہ کے خلاف مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بارے میں مبینہ توہین آمیز بیان پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق مہوا موئترہ نے کہا تھا کہ امت شاہ کا ’’سر کاٹ دینا چاہیے‘‘ کیوں کہ وہ بھارت میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کی دراندازی روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ ایف آئی آر 30 اگست کو مانا کیمپ پولیس اسٹیشن میں مقامی رہائشی گوپال سمانتو کی شکایت پر بھارتیہ نیائے سنہِتا(بی این ایس) کی دفعات 196 اور 197 کے تحت درج کی گئی ہے۔

دریں اثنا چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مہوا موئترہ کے خلاف سخت کارروائی کریں اور عوام سے معافی مانگیں۔ وشنو دوی سائی نے کہا کہ مہوا موئترہ کے بیان کے پیچھے ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی کا ہاتھ ہے اور انھیں اس پر وضاحت دینی چاہیے۔ وہیں کانگریس لیڈر ٹی ایس سنگھ دیو نے بھی اس بیان کی مذمت کی اور کہا کہ ایسے بیانات ناقابل قبول ہیں۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر نتن نابن نے مہوا موئترہ کے تبصرے کو حکومت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں لیکن وہ عوام کی دعاؤں سے محفوظ ہیں۔ مہوا موئترہ کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس سیاسی تنازعے میں مزید شدت آ گئی ہے اور متعدد پارٹیوں کے سیاسی لیڈران نے موئترا کے خلاف بیانات جاری کیے ہیں۔ واضح رہے کہ مہوا موئترا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت نے  مغربی بنگال حکومت کو دراندازوں کا حمایتی قرار دیتے ہوئے ان پر ہندوستان میں موجود غیرقانونی بنگلہ دیشیوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ وہیں ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت بنگالیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے اور اپنے ہی ملک کے شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read