کولکتہ: ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں پر انڈے اور پتھر پھینکنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے لوک سبھا حلقے میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ ایک میٹنگ کر رہی تھیں، اسی دوران بی جے پی کے حامی وہاں پہنچ گئے اور دفتر کے باہر سے انڈے پھینکنے لگے۔
ویڈیو جاری کر کے لگائے الزامات
مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ان کی کال ریسیو نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں اپنے لوک سبھا حلقے کے دفتر میں میٹنگ کر رہی تھی۔ اس دوران بڑی تعداد میں بی جے پی کے لوگ پارٹی دفتر کے باہر جمع ہو گئے۔ یہ لوگ کھڑکی کے ذریعے انڈے اور پتھر پھینک رہے ہیں۔‘‘
پولیس پر غیر فعالیت کا لگایا الزام
مہوا موئترا نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کارکنوں کی جانب سے پھینکے گئے انڈے اور پتھر انہیں بھی لگے، جس سے ان کے کپڑے بھی خراب ہو گئے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے پولیس کو فون کیا، لیکن کوئی مدد نہیں ملی۔ میں نے آپ کو بھی فون کیا، اس کے بعد پولیس تو آئی، مگر وہ صرف تماشائی بنی رہی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’میں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔ ڈی جی پی صاحب، ہجوم کو منتشر کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ یہ ویڈیو دیکھیں گے۔ آپ ایک آئی پی ایس افسر اور مغربی بنگال کے ڈی جی پی ہیں، اس لیے مجھے امید ہے کہ آپ فوری طور پر اس بھیڑ کو ہٹانے کا حکم دیں گے۔‘‘
سی آر پی ایف اور پولیس پر بھی سوالات
ایک اور ویڈیو میں مہوا موئترا نے کہا، ’’ہم پر حملہ ہو رہا ہے اور پولیس کچھ نہیں کر پا رہی۔ میں یہاں کی رکن پارلیمنٹ ہوں، اس کے باوجود یہ ہجوم حملہ آور ہے جبکہ پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس صرف تماشہ دیکھ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے ایکس پر ایک اور پوسٹ میں لکھا، ’’گزشتہ دو گھنٹوں سے آپ کی پولیس صرف تماشہ دیکھ رہی ہے اور ہجوم کو نہیں ہٹا رہی۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں یہاں سے نکلوں اور جیسے ہی میں اپنی گاڑی میں بیٹھوں مجھ پر انڈے یا پتھر پھینکے جائیں۔ براہِ کرم اپنی ذمہ داری ادا کریں، ہجوم کو منتشر کریں۔ میں اس طرح یہاں سے نہیں جاؤں گی۔‘‘
فوری کارروائی کا مطالبہ
قابلِ ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد متعدد ترنمول کانگریس لیڈران پر انڈے پھینکے جانے کے واقعات سامنے آئے تھے۔ اب ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی اسی نوعیت کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


