Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi Rejects Charges In Amit Shah Defamation Case: سلطان پور: راہل گاندھی نے بیان درج کرایا، الزامات کو سیاسی قرار دیا

کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی جمعہ کے روز اتر پردیش کے شہر سلطان پور کی ڈسٹرکٹ عدالت میں پیش ہوئے، جہاں انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے متعلق مبینہ بیان پر دائر ہتک عزت مقدمے میں اپنا بیان درج کرایا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی جمعہ کے روز اتر پردیش کے شہر سلطان پور کی ڈسٹرکٹ عدالت میں پیش ہوئے، جہاں انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے متعلق مبینہ بیان پر دائر ہتک عزت مقدمے میں اپنا بیان درج کرایا۔ عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 313 کے تحت ان کا مؤقف ریکارڈ کیا اور مزید سماعت کے لیے 9 مارچ کی تاریخ مقرر کر دی، جس کے بعد کیس ایک بار پھر قانونی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق کانگریس لیڈر سخت سکیورٹی حصار میں صبح تقریباً گیارہ بجے عدالت پہنچے اور قریب نصف گھنٹہ احاطۂ عدالت میں موجود رہے۔ سماعت کے دوران ان کے وکیل کاشی پرساد شکلا بھی عدالت میں موجود تھے۔ راہل گاندھی گزشتہ ماہ 19 جنوری کو طے شدہ تاریخ پر پیش نہیں ہو سکے تھے جس کے بعد عدالت نے نئی تاریخ 20 فروری مقرر کی تھی۔ عدالت کے باہر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات دیکھنے میں آئے اور بڑی تعداد میں کارکن بھی موجود رہے۔

بیان درج کراتے ہوئے راہل گاندھی نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ سیاسی مقاصد کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ ان کے وکیل کے مطابق مؤکل نے عدالت کو بتایا کہ وہ پورے معاملے میں بے قصور ہیں اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات حقائق پر مبنی نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے عدالت کے سامنے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی فرد کی توہین نہیں تھا بلکہ سیاسی تنقید جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ یہ مقدمہ اکتوبر 2018 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی لیڈر وجے مشرا کی جانب سے درج کرایا گیا تھا۔ شکایت کے مطابق اگست 2018 میں کرناٹک میں انتخابی مہم کے دوران راہل گاندھی نے اس وقت کے بی جے پی قومی صدر امت شاہ کے بارے میں متنازع تبصرہ کیا تھا۔ مدعی نے الزام لگایا کہ اس بیان سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی اور عوام میں غلط پیغام گیا۔ تاہم فروری 2024 میں عدالت نے اس معاملے میں راہل گاندھی کو ضمانت فراہم کر دی تھی۔

بیان درج کرانے کے بعد راہل گاندھی ریاستی صدر اجے رائے اور راجیہ سبھا رکن پرمود تیواری سمیت دیگر لیڈروں کے ساتھ لکھنؤ روانہ ہو گئے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق عدالت میں پیشی کے موقع پر انڈین نیشنل کانگریس کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود رہی، جنہوں نے اپنے قائد کے حق میں حمایت کا اظہار کیا اور قانونی کارروائی پر اعتماد ظاہر کیا۔ پارٹی کے ایک اور لیڈر نے بتایا کہ راہل گاندھی بعد ازاں لکھنؤ سے قومی دارالحکومت دہلی واپس لوٹیں گے۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک فریقین کو شواہد پیش کرنے کی مہلت دی ہے اور سماعت کو اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگلی تاریخ پر گواہوں اور دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد مقدمے کی کارروائی مزید آگے بڑھے گی اور فیصلہ کن مرحلے کے آغاز کی توقع کی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read