ملزم خالد سیفی
نئی دہلی: سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق سازش کے ایک معاملے میں ملزم خالد سیفی کو عدالت نے عبوری ضمانت دے دی ہے۔ یہ ضمانت انہیں خاندانی تقریب میں شرکت کے لیے دی گئی ہے، جس کے تحت وہ اپنے بھتیجوں کی شادی میں شامل ہو سکیں گے۔ عدالت کی جانب سے خالد سیفی کو مجموعی طور پر 13 دنوں کی عارضی راحت فراہم کی گئی ہے۔ جمعرات کو دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے اس معاملے پر سماعت کرتے ہوئے ’یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ‘ کے بانی خالد سیفی کو 6 فروری سے 13 فروری تک عبوری ضمانت منظور کی۔ عدالت نے یہ راحت 20 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے پر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل اسی کیس سے جڑے دیگر ملزمان، جن میں میران حیدر اور گل فشاں فاطمہ شامل ہیں، کو بھی ضمانت دی جا چکی ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عبوری ضمانت کے دوران خالد سیفی کسی بھی گواہ سے رابطہ نہیں کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں دہلی اور نیشنل کیپیٹل ریجن (این سی آر) کی حدود سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ وہ اس مدت کے دوران میڈیا سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں کریں گے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر کوئی سرگرمی انجام دیں گے یا کسی قسم کا مواد شائع کریں گے۔
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ عبوری ضمانت صرف خاندانی ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے دی جا رہی ہے اور اس کا مطلب مقدمے کی میرٹ پر کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ضمانت کی مدت مکمل ہونے کے بعد خالد سیفی کو فوری طور پر متعلقہ جیل حکام کے سامنے خود سپرد ہونا ہوگا۔
دہلی پولیس کے مطابق، خالد سیفی پر الزام ہے کہ انہوں نے فسادات سے قبل مبینہ سازشی اجلاسوں میں شرکت کی، جہاں ہتھیاروں کی خریداری کے لیے فنڈنگ پر بات چیت ہوئی۔ پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سیفی نے فسادات کے دوران مظاہرین کو سی سی ٹی وی کیمروں کو بند کرنے کی ہدایات دیں اور بعد ازاں معاملے کو دبانے کے لیے ایک مبینہ جشن کی میٹنگ کا اہتمام کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


