Bharat Express DD Free Dish

Delhi Riots Case

جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم میں عائد شرائط میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی، دونوں پر فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ بڑی سازش میں ملوث ہونے کا الزام۔

دہلی میں سال 2020 کے فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کی جانب سے دائر ضمانت درخواستوں پر دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ کی ڈویژن بنچ ان درخواستوں پر سماعت کر رہی ہے۔

سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت ایک بار پھر اٹک گئی ہے۔ دونوں کی ضمانت درخواستوں کی دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران دہلی پولیس نے ان کی ضمانت کی سخت مخالفت کی ہے۔ پولیس نے دونوں کی نئی ضمانت درخواستوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے 2020 کے فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں دیگر پانچ ملزمان، گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت دے دی تھی۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے تسلیم احمد اور خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت بھی دی ہے۔

اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ بھی طاہر حسین کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔ اب اس اہم مقدمے میں تمام فریقین کی نظریں 7 جولائی پر مرکوز ہیں، جب عدالت کی جانب سے اس حساس مقدمے میں فیصلہ سنائے جانے کی توقع ہے۔

عشرت جہاں کو 26 فروری 2020 کو اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ 14 مارچ 2022 کو دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ دہلی پولیس نے اسی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرائل کورٹ کا حکم قانونی اصولوں کے منافی اور کئی خامیوں پر مبنی ہے۔

دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گرفتار سماجی کارکن عمر خالد کو ایک بار پھر عدالت سے کوئی راحت نہیں مل سکی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے ان کی جانب سے دائر نظرثانی عرضی کو خارج کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی جیل میں قیام بدستور جاری رہے گا۔

عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو 20 ہزار روپے کے مچلکے پر چھ دن کے لیے عبوری ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے اس دوران متعدد سخت شرائط بھی عائد کیں تاکہ قانونی عمل متاثر نہ ہو۔ حکم کے مطابق خالد سیفی عبوری ضمانت کے دوران دہلی-این سی آر سے باہر سفر نہیں کر سکیں گے اور انہیں سوشل میڈیا کے استعمال سے بھی مکمل طور پر دور رہنا ہوگا۔

سال 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران ایک مسلم نوجوان کی پولیس تشدد سے ہوئی موت کے معاملے میں عدالت نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے سی بی آئی کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ کا نوٹس لیا ہے۔ دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے اس کیس میں دہلی پولیس کے دو اہلکاروں کو طلب کرتے ہوئے 24 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے سال 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات سے متعلق یو اے پی اے معاملے میں دو ملزمین کی ضمانت عرضیوں پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اپنی اسٹیٹس رپورٹ داخل کرے اور معاملے میں تفصیلی جواب پیش کرے۔