Bharat Express DD Free Dish

North East Delhi riots case

عشرت جہاں کو 26 فروری 2020 کو اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ 14 مارچ 2022 کو دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ دہلی پولیس نے اسی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرائل کورٹ کا حکم قانونی اصولوں کے منافی اور کئی خامیوں پر مبنی ہے۔

دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گرفتار سماجی کارکن عمر خالد کو ایک بار پھر عدالت سے کوئی راحت نہیں مل سکی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے ان کی جانب سے دائر نظرثانی عرضی کو خارج کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی جیل میں قیام بدستور جاری رہے گا۔

عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو 20 ہزار روپے کے مچلکے پر چھ دن کے لیے عبوری ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے اس دوران متعدد سخت شرائط بھی عائد کیں تاکہ قانونی عمل متاثر نہ ہو۔ حکم کے مطابق خالد سیفی عبوری ضمانت کے دوران دہلی-این سی آر سے باہر سفر نہیں کر سکیں گے اور انہیں سوشل میڈیا کے استعمال سے بھی مکمل طور پر دور رہنا ہوگا۔

سال 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران ایک مسلم نوجوان کی پولیس تشدد سے ہوئی موت کے معاملے میں عدالت نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے سی بی آئی کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ کا نوٹس لیا ہے۔ دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے اس کیس میں دہلی پولیس کے دو اہلکاروں کو طلب کرتے ہوئے 24 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے سال 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات سے متعلق یو اے پی اے معاملے میں دو ملزمین کی ضمانت عرضیوں پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اپنی اسٹیٹس رپورٹ داخل کرے اور معاملے میں تفصیلی جواب پیش کرے۔

سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق سازش کے ایک معاملے میں ملزم خالد سیفی کو عدالت نے عبوری ضمانت دے دی ہے۔ یہ ضمانت انہیں خاندانی تقریب میں شرکت کے لیے دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات سے جڑے مبینہ سازش کے معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی ہیں، جبکہ اسی کیس میں نامزد پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دے دی گئی ہے۔

دہلی فسادات معاملے میں شرجیل امام کی ضمانت پر سپریم کورٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ شاہین باغ احتجاج ٹرمپ کے دورے کے وقت ہی پلان کیا گیا، یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سازش تھی۔ اس کے ویڈیو ثبوت بھی پولیس نے پیش کیے۔

راؤز ایونیو کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے حکم کو جزوی طور پر منسوخ کرتے ہوئے پولیس کو قانونی ضابطوں کے تحت ازسرنو سماعت کی ہدایت جاری کی ہے۔