نئی دہلی: راؤز ایونیو کی خصوصی عدالت نے پیر کو دہلی کے وزیر قانون کپل مشرا اور دہلی پولیس کی جانب سے دائر نظرثانی درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے اس حکم کو کالعدم قرار دیا ہے جس میں ٹرائل کورٹ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی سازش کیس میں کپل مشرا کے کردار کی مزید تفتیش کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے دہلی پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ کپل مشرا کے مبینہ کردار کے سلسلے میں شکایت پر قانون کے مطابق سماعت یقینی بنائے۔
شکایت کس نے دائر کی تھی؟
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب محمد الیاس نامی شخص نے عدالت میں شکایت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ فسادات سے قبل کپل مشرا کی تقریر نے حالات کو بھڑکایا، جس کے نتیجے میں فساد شروع ہوا۔ نچلی عدالت نے گزشتہ برس پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ کپل مشرا کے کردار کی مزید تفتیش کرے، جس کے خلاف کپل مشرا اور دہلی پولیس دونوں نے اپیل کی تھی۔
دہلی پولیس کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی اس معاملے میں کپل مشرا سے متعلق تفتیش کر چکی ہے اور انہیں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جو سازش یا اشتعال انگریزی کے الزام کو ثابت کرے۔ پولیس نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی مہمات اور چند واٹس ایپ گروپس میں ہونے والی گفتگو کو بنیاد بنا کر مشرا کے خلاف مقدمہ تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ٹرائل کورٹ میں دوبارہ ہوگی سماعت
خصوصی جج دگ ونئے سنگھ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نچلی عدالت کا حکم جزوی طور پر درست نہیں تھا، اس لیے اسے منسوخ کیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ شکایت کو یکسر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس شکایت پر ٹرائل کورٹ میں قانون کے مطابق دوبارہ سماعت ہوگی اور پولیس عدالت کے سامنے موجود شواہد کی بنیاد پر اپنا موقف رکھے گی۔
عدالت کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ کپل مشرا کے خلاف سازش کے الزام کو ابھی حتمی طور پر خارج نہیں کیا گیا، بلکہ اس پر مزید غور کیا جائے گا۔ اب معاملہ دوبارہ ٹرائل کورٹ میں بھیجا گیا ہے جہاں یہ طے ہوگا کہ کیا مزید تفتیش کی ضرورت ہے یا نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


