Bharat Express DD Free Dish

Karkardooma Court

دہلی فسادات کو 6 سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود جمعیۃ علماء ہند آج بھی 200 ٹرائل مقدمات میں قانونی پیروی کر رہی ہے، جبکہ جمعیۃ کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں ہنوز 100 سے زائد افراد باعزت بری ہوچکے ہیں۔ ان مقدمات کی نگرانی جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی کی قیادت میں وکلاء کی ایک ٹیم کر رہی ہے۔

 آئی بی آفیسرانکت شرما کا قتل فروری 2020 میں شامل مشرقی دہلی کے فسادات کے دوران ہوا تھا۔ اس معاملے میں عدالت نے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت 5 افراد کو قصور وار قرار دیا ہے۔ جبکہ 6 افراد کو بری کردیا۔

سماعت کے دوران شرجیل امام کی جانب سے پیش ہوئے وکیل طالب مصطفیٰ نے دلیل دی کہ کیا کسی ملزم پرایک سال تک ضمانت کی درخواست دائرنہ کرنے جیسی پابندی عائد کی جا سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پرسپریم کورٹ کی بڑی بینچ کوبھی غورکرنا چاہئے۔

ککڑڈوما کورٹ نے دہلی فسادات کے ملزم شرجیل امام اورعمرخالد کی درخواست ضمانت پراپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ سماعت کے دوران وکلاء نے سپریم کورٹ کے سابقہ ​​فیصلے کی تشریح اورمعاملے پرغورکرنے والے لارجر بینچ کے امکان سے متعلق دلائل پیش کئے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات اس وقت تک لاگورہیں گی جب تک بڑی بنچ سے وضاحت نہیں مل جاتی۔

دہلی کی کڑکڑ ڈوما کورٹ نے عمرخالد کی 15 دنوں کی عبوری ضمانت کی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ عمرخالد نے ماں کی دیکھ بھال کے لئے عبوری ضمانت کا مطالبہ کیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر واجپئی نے عمر خالد کی 15 دن کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو 20 ہزار روپے کے مچلکے پر چھ دن کے لیے عبوری ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے اس دوران متعدد سخت شرائط بھی عائد کیں تاکہ قانونی عمل متاثر نہ ہو۔ حکم کے مطابق خالد سیفی عبوری ضمانت کے دوران دہلی-این سی آر سے باہر سفر نہیں کر سکیں گے اور انہیں سوشل میڈیا کے استعمال سے بھی مکمل طور پر دور رہنا ہوگا۔

سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق سازش کے ایک معاملے میں ملزم خالد سیفی کو عدالت نے عبوری ضمانت دے دی ہے۔ یہ ضمانت انہیں خاندانی تقریب میں شرکت کے لیے دی گئی ہے۔

دہلی فساد معاملے میں ملزم عمرخالد کو بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے انہیں بہن کی شادی میں شامل ہونے کے لئے 16 سے 29 دسمبرتک عبوری ضمانت دی ہے۔ اس دوران عمرخالد سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرپائیں گے۔ وہ صرف فیملی اور رشتہ داروں سے ملاقات کر سکیں گے۔

سابق چیف جسٹس بی آرگوئی پرجوتا پھینکنے والے وکیل راکیش کشور کو دہلی کے کڑکڑڈوما کورٹ احاطے میں وکیلوں نے جوتے چپلوں سے پیٹ دیا ہے۔

دہلی کی ایک عدالت نے فروری 2020 میں قومی دارالحکومت میں ہونے والے فسادات کے دوران دو افراد کے قتل کے الزام میں 12 افراد کو بری کر دیا ہے۔