الیکشن کمیشن کو ’’غیر فعال‘‘ اور ’’ناکام‘‘ ادارہ قرار دیتے ہوئے راجیہ سبھا ممبر کپل سبل نے دعویٰ کیا ہے کہ عوام کے ایک بڑے حصے کو انتخابی ادارے پر بھروسہ نہیں رہا، کیوں کہ اس نے اپنی آئینی ذمہ داریوں کے مطابق کام نہیں کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کپل سبل نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر عوام کے اعتماد کی کمی کے معاملے سے جتنی جلدی نمٹا جائے، جمہوریت کو بچانے کا موقع اتنا بڑا ہوگا۔
ووٹر لسٹ میں بےضابطگیوں پر اٹھائے سوال
ووٹر لسٹ میں بےضابطگیوں کے الزامات کے حوالے سے کپل سبل نے کہا ’’الیکشن کمیشن ایک غیر فعال ادارہ ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داریوں کے مطابق کام نہیں کیا، جس کی آئین کے تحت اس سے توقع کی جاتی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ آج الیکشن کمیشن پر بہت کم لوگوں کو بھروسہ ہے ’’لہٰذا ہم اس مسئلے سے جتنی جلدی نمٹیں گے، جمہوریت کو بچانے کا اتنا ہی بڑا موقع ہوگا۔‘‘ اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا ’’اپوزیشن کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ ای وی ایم کے علاوہ کچھ حقیقی سنگین مسائل بھی ہیں جو یہ بتاتے ہیں انتخابات کا عمل شفاف نہیں ہے۔ ہمیں ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ سبل نے دعویٰ کیا کہ جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ کئی سطحوں پر جوڑ توڑ کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔
سبل کا یہ بیان کانگریس اور انڈیا اتحاد میں شامل پارٹیوں کی جانب سے ووٹر لسٹ میں بےضابطگی کے مسائل کو بار بار اٹھانے کے پس منظر میں آیا ہے۔ دریں اثنا الیکشن کمیشن نے ہفتے کے روز کہا کہ اس کے 4,000 سے زیادہ انتخابی رجسٹریشن افسران اپنی متعلقہ اسمبلی سیٹوں پر زیر التواء پولنگ بوتھ سطح کے مسائل کو حل کرنے کے لیے آل پارٹی میٹنگ کر رہے ہیں۔ وہیں الیکشن کمیشن نے ووٹر کارڈ کو آدھار کے ساتھ جوڑنے اور ووٹر فہرست کو درست اور شفاف بنانے کے لیے پیدائش اور موت کے اندراج کے حکام کو بھی اپنے کام میں شامل کرنے کے امکان پر بھی کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



