پٹنہ: بہار کی سیاست میں اس وقت نئی بحث چھڑ گئی ہے، جب وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ملک کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’’بھارت رتن‘‘ دینے کی مانگ پر جنتا دل (یونائیٹڈ) کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ پارٹی کے سینئر لیڈر کے سی تیاگی کے بیان کے بعد جے ڈی یو نے خود کو اس مطالبے سے الگ کر لیا ہے اور اسے ان کا ذاتی نظریہ قرار دیا ہے۔ اس معاملے نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ پارٹی کے اندرونی تال میل پر بھی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ جے ڈی یو کے سینئر لیڈر کے سی تیاگی نے جمعہ 9 جنوری 2026 کو وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو ’’بھارت رتن‘‘ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اپنے خط میں انہوں نے نتیش کمار کو سماجوادی تحریک کا ایک انمول اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس اعزاز کے مکمل طور پر حقدار ہیں۔ کے سی تیاگی کے اس خط کے منظر عام پر آتے ہی سیاسی ردعمل کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
تاہم، کے سی تیاگی کے بیان سے جے ڈی یو کی قیادت نے فوراً ہی کنارہ کشی اختیار کر لیا۔ پارٹی کے ترجمان راجیو رنجن نے واضح الفاظ میں کہا کہ کے سی تیاگی کے بیان کا پارٹی کی نظریاتی سوچ یا سرکاری مؤقف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کے سی تیاگی کا ذاتی نظریہ ہو سکتا ہے اور جنتا دل (یونائیٹڈ) اس مطالبے کی تائید نہیں کرتی۔ راجیو رنجن نے یہاں تک کہہ دیا کہ پارٹی کے کئی کارکنوں اور لیڈروں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کے سی تیاگی اس وقت فعال طور پر پارٹی کے ساتھ ہیں یا نہیں۔ پارٹی کے ایک اور سینئر لیڈر نیرج کمار نے بھی دو ٹوک انداز میں کہا کہ جے ڈی یو کا اس بیان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ان کے مطابق پارٹی اس وقت عوامی مسائل اور ریاست کی ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، نہ کہ ایسے مطالبات پر جو غیر ضروری سیاسی بحث کو جنم دیں۔
ذرائع کے مطابق، پارٹی قیادت کے سی تیاگی کے اس بیان سے ناخوش ہے، کیونکہ وہ اس سے قبل بھی پارٹی لائن سے ہٹ کر بیانات دے چکے ہیں۔ قیادت کو خدشہ ہے کہ اس طرح کے بیانات سے پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے اور اتحاد کی سیاست میں غلط پیغام جا سکتا ہے۔ ادھر، کے سی تیاگی کے مطالبے کو کچھ سیاسی حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔ مرکزی وزیر اور ہندوستانی عوام مورچہ (سیکولر) کے لیڈر جیتن رام مانجھی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے نتیش کمار کو بھارت رتن دینے کے مطالبے کی حمایت کی۔ انہوں نے لکھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے فیصلوں سے سب کو حیران کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر نتیش کمار کو بھارت رتن دے کر سب کو چونکا دیں۔
भारत रत्न नीतीश कुमार जी…
ये शब्द सुनने में कितना अच्छा लगेगा ना।हमें पुर्ण विश्वास है कि अपने फ़ैसले से सबको चौंका देने वाले माननीय प्रधानमंत्री @narendramodi जी बिहार के माननीय मुख्यमंत्री @NitishKumar जी को भारत रत्न से नवाज़े जाने का फ़ैसला कर एक बार फिर से सबको चौकाएंगें।…
— Jitan Ram Manjhi (@jitanrmanjhi) January 10, 2026
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نتیش کمار کے لیے بھارت رتن کا مطالبہ سامنے آیا ہو۔ اس سے قبل دسمبر 2024 میں مرکزی وزیر گری راج سنگھ بھی نتیش کمار اور اڈیشہ کے سابق وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک کے لیے اس اعزاز کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں لیڈروں نے اپنی اپنی ریاستوں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ فی الحال نتیش کمار دسویں بار بہار کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اگرچہ بھارت رتن ملک کا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے، لیکن تاریخ میں بہت کم سیاست دانوں کو زندگی میں یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ ایسے میں کے سی تیاگی کے مطالبے اور جے ڈی یو کے اندر ابھرے اختلافات نے بہار کی سیاست کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


