Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Welcomes SC Stay on Waqf Act Provisions: وقف ترمیمی قانون کی تین دفعات پر سپریم کورٹ کی روک کا جمعیۃ علماء ہند نے خیرمقدم کیا، مولانا ارشد مدنی نے کہا-قانون کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی

مولانا ارشد مدنی نے اس قانون کو بھارتی آئین پر براہ راست حملہ قرار دیا، جو اقلیتوں کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کی تین متنازع دفعات پر عبوری روک لگا دی ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس بی آر گوئی کی سربراہی والی دو رکنی بینچ نے سنایا، جس میں کہا گیا کہ اگرچہ پورے قانون کو رد کرنے کی کوئی بنیاد فی الحال موجود نہیں، تاہم نئی دفعات میں بعض نکات ایسے ہیں جن پر قانونی تحفظ فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت وہی شخص وقف کرنے کا مجاز تھا جو پانچ برس سے اسلام پر عمل پیرا ہو۔ عدالت نے اس شرط پر عبوری روک لگاتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ریاستی حکومتیں اس سلسلے میں کوئی واضح طریقۂ کار وضع نہیں کرتیں، اس شرط پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح نئے قانون کے تحت ضلع کلکٹر کو وقف جائیداد سے متعلق تنازعات میں فیصلہ سازی کے مکمل اختیارات دیے گئے تھے۔ عدالت نے اس شق پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ جب تک کوئی فیصلہ ٹربیونل یا عدالت سے نہ آ جائے متنازع وقف جائیداد میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی کوئی فریق اس جائیداد کے اختیارات کسی تیسرے فریق کو منتقل کر سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کمشنر کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی جائیداد کی ملکیت کا تعین کرے۔

عدالت نے سینٹرل وقف کونسل میں غیر مسلم اراکین کی تعداد چار سے زیادہ نہ ہونے اور ریاستی وقف بورڈ میں تین سے زیادہ غیر مسلم اراکین کی تقرری پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ اگرچہ ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلم چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کی تقرری پر روک نہیں لگائی گئی، تاہم عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں تک ممکن ہو مسلم سی ای او کی تقرری کی جانی چاہیے۔ عدالت نے وقف املاک کی رجسٹریشن سے متعلق شرائط پر مداخلت نہیں کی اور کہا کہ رجسٹریشن کا عمل پہلے بھی جاری رہا ہے اس میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت غیر معمولی حالات میں ہی کسی قانون کو معطل یا مسترد کرتی ہے۔ درخواست گزاروں نے پورے قانون کو چیلنج کیا تھا، جن میں بعض دفعات پر اعتراضات کافی سنجیدہ نوعیت کے تھے۔ مرکزی حکومت نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وقف بائی لاز سمیت کسی بھی ایسی وقف جائیداد کو جو نوٹیفکیشن یا رجسٹریشن کے تحت درج ہو، ڈی نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی کی جائے گی۔

مولانا ارشد مدنی نے فیصلے کا کیا خیرمقدم

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ عدالت نے ملک بھر کے مسلمانوں کی طرف سے جن دفعات پر تحفظات، تشویش اور خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے، انھیں شدت سے محسوس کیا اور تین اہم دفعات پر عبوری روک لگا دی۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی یہ قانونی لڑائی ختم نہیں ہوئی اور جمعیۃ علماء ہند اس سیاہ قانون کے مکمل خاتمے تک اپنی قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

مولانا ارشد مدنی نے اس قانون کو بھارتی آئین پر براہ راست حملہ قرار دیا، جو اقلیتوں کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ قانون مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر خطرناک ضرب ہے اور اسی لیے جمعیۃ نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ انھیں یقین ہے کہ سپریم کورٹ آخرکار اس قانون کو مسترد کر کے مکمل آئینی انصاف فراہم کرے گا۔ مولانا ارشد مدنی نے اپنے وکلا، بالخصوص سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل کا شکریہ ادا کیا، جنھوں نے مدلل بحث کے ذریعے عدالت کو قائل کیا کہ وقف ترمیمی ایکٹ کی بعض دفعات نہ صرف غیر آئینی ہیں بلکہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے بھی خلاف ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read