جمعیۃ علماء ہند نے مالیگاؤں بم دھماکہ سے متعلق این آئی اے کورٹ کے فیصلے کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔
نئی دہلی: مہاراشٹرکے مالیگاؤں میں 2008 میں ہوئے بم دھماکہ معاملے میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکراورلیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت سمیت تمام 7 ملزمین کو بری کردیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی مصدقہ اورٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔ اب جمعیۃ علماء ہند نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کواعلیٰ عدالت میں چیلنج کرے گی۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کا لیگل سیل اگست کے پہلے ہفتے میں بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کرے گا۔ جمعیۃ علماء ہند کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کیا مرکزی حکومت مالیگاؤں دھماکہ کے فیصلے کوممبئی ٹرین دھماکہ کیس کی طرح اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرے گی؟ جمعیۃ علماء ہند مالیگاؤں دھماکہ میں مارے گئے لوگوں کی جانب سے مقدمہ لڑرہی تھی۔
متاثرین نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا
این آئی اے کی خصوصی عدالت کے فیصلے سے متاثرہ خاندانوں کومایوسی ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں اورمتاثرین نے اسے انصاف نہیں بلکہ بہت بڑی ناانصافی قراردیتے ہوئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا قیوم قاسمی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا، ’’ہمیں جوامید تھی، اس طرح سے فیصلہ نہیں آیا۔ ہیمنت کرکرے نے جوامید کی کرن دکھائی تھی، وہ ہمارے حق میں نہیں آئی۔ مالیگاؤں کے متاثرین غریب اور مظلوم ہیں، لیکن ان کے حق میں فیصلہ نہیں آیا۔ اب ہم سپریم کورٹ جائیں گے۔‘‘
غلط پنچ نامہ تیارکرنے کا نتیجہ ہے یہ فیصلہ: متاثرین
مولانا قیوم قاسمی نے کہا، ’’آج کا فیصلہ مالیگاؤں کے لیے مایوسی لے کرآیا ہے۔ عدالتوں پرجو بھروسہ تھا، اس میں بھی لوگوں کے درمیان کمی محسوس ہورہی ہے۔ یہ فیصلہ پنچ نامہ تیارکرنے والوں کی غلطی کا نتیجہ ہے۔ کئی معاملوں میں ملزمان کوصرف کاغذی کمیوں کی وجہ سے چھوڑدیا گیا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ حکومت اورعدالت پردباؤ تھا، جس کی وجہ سے ہمیں انصاف نہیں ملا۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




