نئی دہلی: بھارتی ریلوے میں بڑے پیمانے پر ٹریک کی تجدید اور جدید کاری کے اقدامات نے ملک کے ریلوے نیٹ ورک کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، تیز اور محفوظ بنا دیا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ٹریک کی بہتری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مشینی دیکھ بھال نے ریلوے کے مجموعی نظام میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ پی ایم او کے مطابق ان اصلاحات کے نتیجے میں نہ صرف ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سفر بھی زیادہ آرام دہ اور قابل اعتماد بن گیا ہے۔ ٹرینوں کی تاخیر میں کمی آئی ہے اور مسافروں کے ساتھ ساتھ مال برداری کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو بھی بہتر انداز میں پورا کیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کو ریلوے کے جاری اصلاحاتی اقدامات کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
پی ایم او کی پوسٹ میں وزیر ریلوے اشونی ویشنو کے ایک مضمون کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں انہوں نے ریلوے انفراسٹرکچر کی جدید کاری کو رفتار اور حفاظت کے لیے کلیدی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں بھارتی ریلوے نے ٹریک کی بہتری پر خصوصی توجہ دی ہے، جس کے مثبت نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے اب تک تقریباً 55 ہزار کلومیٹر ریلوے ٹریک کی تجدید کی جا چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 80 ہزار کلومیٹر سے زائد مضبوط 60 کلوگرام ریل بھی بچھائی گئی ہے، جو بھاری وزن اور تیز رفتار ٹرینوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان اقدامات سے جدید اور تیز رفتار ٹرینوں، خصوصاً وندے بھارت ایکسپریس جیسی خدمات کو فروغ ملا ہے۔
وزیر ریلوے نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت میں روزانہ 25 ہزار سے زائد ٹرینیں چلتی ہیں، جو ہر روز تقریباً دو کروڑ مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچاتی ہیں۔ اس کے علاوہ کوئلہ، لوہا، اناج، اسٹیل اور سیمنٹ جیسی اہم اشیاء کی بڑی مقدار بھی اسی نیٹ ورک کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔ ایسے میں ریلوے ٹریک کی مضبوطی پورے نظام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ٹریک معیاری اور محفوظ ہو تو ٹرینیں نہ صرف تیز چلتی ہیں بلکہ حادثات کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس خراب ٹریک کی صورت میں نہ صرف تاخیر بڑھتی ہے بلکہ حادثات کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریلوے نے بڑے پیمانے پر جدید کاری کا پروگرام شروع کیا، جس میں مشینی طریقے سے ٹریک کی تبدیلی، جدید ٹیسٹنگ سسٹمز اور باقاعدہ دیکھ بھال کو یقینی بنایا گیا۔
حفاظت کے میدان میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق الٹراسونک فلو ڈیٹیکشن (یو ایس ایف ڈی) جیسی جدید تکنیک کے ذریعے لاکھوں کلومیٹر ٹریک اور کروڑوں ویلڈز کی جانچ کی جا چکی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹریک کے اندر موجود باریک دراڑوں کا بروقت پتہ لگایا جا سکتا ہے، جس سے ممکنہ حادثات کو پہلے ہی روکا جا رہا ہے۔ وزیر ریلوے نے بتایا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں ریل اور ویلڈ فیل ہونے کے واقعات میں تقریباً 90 فیصد تک کمی آئی ہے، جو ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی جدید کاری نہ صرف ریلوے کے نظام کو مستحکم بناتی ہے بلکہ ملک کی معیشت کو بھی تقویت دیتی ہے، کیونکہ موثر ٹرانسپورٹ نظام ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں بھی ریلوے نیٹ ورک کو مزید جدید بنانے کے لیے ایسے ہی اقدامات جاری رہیں گے تاکہ مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ملک کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
