Bharat Express DD Free Dish

Humayun Kabir’s connection with BJP: کبھی بی جے پی نے لڑایا انتخاب، اب نئی پارٹی؛ کیا ہے ’بابری مسجد‘ والے ہمایوں کبیر کا شجرہ؟

مغربی بنگال کے مرشدآباد میں ’بابری مسجد‘ کی بنیاد رکھنے کے بعد ٹی ایم سی کے معطل ایم ایل اے ہمایوں کبیر خاصی سرخیوں میں ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کا بی جے پی سے بھی گہرا تعلق رہا ہے؟

ملک کی سیاسی بحثوں کے مرکز میں اِن دنوں مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع کے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سے معطل رکنِ اسمبلی ہمایوں کبیر ہیں۔ انہوں نے ’بابری مسجد‘ کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ پروگرام 6 دسمبر کو منعقد ہوا، وہی تاریخ جب ایودھیا میں بابری مسجد شہید کی گئی تھی۔ تاہم، کیا آپ جانتے ہیں کہ اس سے پہلے ان کا تعلق کانگریس اور بی جے پی دونوں سے گہرا رہا ہے؟ بابری مسجد کی بنیاد کے بارے میں ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ یہ مسجد تین سو کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جائے گی اور اس میں ایک ہیلی پیڈ، ایک یونیورسٹی اور ایک اسپتال بھی شامل ہوگا۔ آئیے جانتے ہیں ان کا نیا اعلان کیا ہے اور بی جے پی کے ساتھ ان کے کیا تعلقات رہے ہیں۔

ٹی ایم سی سے معطلی اور بی جے پی سے وابستگی

ٹی ایم سی نے بابری مسجد کی بنیاد رکھنے کے سبب ہمایوں کبیر کو معطل کر دیا تھا۔ اس سے پہلے وہ کانگریس اور ٹی ایم سی دونوں میں کام کر چکے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ 2019 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر لوک سبھا انتخابات بھی لڑ چکے ہیں۔ لیکن بنگال انتخابات سے قبل بابری مسجد کی تعمیر کے اعلان سے وہ ایک مرتبہ پھر بی جے پی کی سیاست کو فائدہ پہنچاتے نظر آ رہے ہیں۔

ہمایوں کبیر کی نئی پارٹی اور اویسی سے اتحاد کا اعلان

ہمایوں کبیر نے اعلان کیا ہے کہ وہ 22 دسمبر کو اپنی نئی پارٹی بنائیں گے اور اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کریں گے۔ کبیر کے مطابق ان کی پارٹی بنگال اسمبلی انتخابات میں 135 امیدوار میدان میں اتارے گی اور وہ خود کو اس الیکشن کا بڑا گیم چینجر سمجھتے ہیں۔

ہمایوں کبیر کا سیاسی سفر

ہمایوں کبیر نے اپنا سیاسی سفر 1993 میں کانگریس سے شروع کیا تھا۔ 2011 میں پہلی بار وہ اسمبلی پہنچے اور بعد میں ٹی ایم سی میں شامل ہوگئے۔ اب انہوں نے ایک نئی پارٹی بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ کبیر پر 13پولیس مقدمے بھی درج ہیں جن میں سے کچھ میں ان پر باقاعدہ الزامات بھی مقرر کیے جا چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ان کا سیاسی قد آگے کس سمت بڑھتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read