Bharat Express

High Court News: اسامہ بن لادن کی تصویر یا داعش کا جھنڈہ موبائل میں ہونے سے کوئی دہشت گرد ثابت نہیں ہوجاتا: عدالت

اس کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت نے ہدایت کی کہ رحمٰن کو ان شرائط و ضوابط پر ضمانت پر رہا کیا جائے جو متعلقہ خصوصی عدالت مناسب سمجھے۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر کسی کے موبائل میں دہشت گرد اسامہ بن لادن کی تصاویر، جہاد کا پروپیگنڈہ اور داعش کے جھنڈے جیسی قابل اعتراض مواد پائی جاتی ہے اور وہ بنیاد پرست یا مسلم مبلغین کے لیکچر سن رہا ہے تو اسے داعش جیسی دہشت گرد تنظیم  کا کا رکن قرار  دینے کے لیے کافی نہیں ہے۔ مندرجہ بالا مشاہدہ کرتے ہوئے، جسٹس سریش کمار کیت اور جسٹس منوج جین کی بنچ نے UAPA کے تحت کیس کے ایک ملزم عمار عبدالرحمن کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

بنچ نے کہا کہ آج کے الیکٹرانک دور میں اس طرح کا قابل اعتراض مواد ورلڈ وائڈ ویب پر آسانی سے دستیاب ہے۔ اس تک رسائی اور ڈاؤن لوڈ کرنا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا کہ ملزم نے خود کو ISIS سے جوڑ لیا ہے۔ ویسے کوئی بھی شوقین شخص اس طرح کے مواد تک رسائی اور ڈاؤن لوڈ کرسکتا ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ فعل بذات خود کوئی جرم نہیں ہے۔ ملزم کو این آئی اے نے اگست 2021 میں گرفتار کیا تھا۔ اس پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ آئی ایس آئی ایس سے مضبوط وابستگی رکھتا ہے اور آئی ایس آئی ایس کے معلوم اور نامعلوم ارکان کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر اور آئی ایس آئی ایس کے زیر کنٹرول دیگر علاقوں میں خلافت قائم کرنے اور ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ اے این آئی نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ اس نے اسکرین ریکارڈر کا استعمال کرتے ہوئے انسٹاگرام سے آئی ایس آئی ایس اور وحشیانہ قتل سے متعلق ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کی کابینہ نے اسرائیل میں ‘الجزیرہ’ کے دفاتر کو بند کرنے کا کیا فیصلہ

اس کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت نے ہدایت کی کہ رحمٰن کو ان شرائط و ضوابط پر ضمانت پر رہا کیا جائے جو متعلقہ خصوصی عدالت مناسب سمجھے۔ اس نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کے تبصرے عارضی نوعیت کے تھے اور صرف ضمانت کا فیصلہ کرنے کے لیے تھے۔ خصوصی عدالت کیس کی سماعت میرٹ پر کرے گی۔  وہ سماعت کے دوراس اس کے تبصروں سے متفق نہیں بھی ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Also Read