جموں و کشمیر کے گلمرگ میں منعقدہ ایک فیشن شو کو لے کر زبردست ہنگامہ ہورہا ہے۔ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ مسلم اکثریتی صوبہ کشمیر کے اندر رمضان کے مقدس مہینے میں کوئی ایسا شو کیسے منعقد کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ اب اس معاملے کی تحقیقات کر کے 24 گھنٹے میں رپورٹ دی جائے ۔ دراصل یہ فیشن شو گلمرگ کے ایک پرائیویٹ ریزورٹ میں منعقد کیا گیا تھا۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیوز کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ ریمپ واک کی گئی اور ویسٹرن اور دیگر لباسوں میں تصاویر کلک کی گئیں۔
🚨 Breaking: #Gulmarg‘s snowy slopes recently hosted a breathtaking #fashionshow celebrating #Kashmir’s peaceful revival post-#Article370! 🌨️👗 This event is a powerful symbol of Kashmir’s transformation & resilience! @umashankarsingh @rainarajesh @SrinagarGirl @ROUBLENAGI pic.twitter.com/OxpfCd2NVK
— Kashmir Nama (@naaz_mahar) March 10, 2025
اب یہ مسئلہ جموں و کشمیر اسمبلی میں اٹھایا گیا ہے۔ رہنماؤں کا موقف ہے کہ رمضان جیسے مہینے میں جب لوگ روزے رکھتے ہوں تو ایسی فحاشی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ سی ایم عمر عبداللہ نے پہلے کہا تھا کہ وہ اس معاملے سے لاعلم ہیں، لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ اس کی تفصیلی تحقیقات کی جائے گی اور ایسے پروگراموں کی نہ صرف رمضان بلکہ کسی بھی مہینے میں اجازت نہیں دی جاسکتی۔ سی ایم او آفس نے یہ بھی کہا ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
Fashion designer Shivan & Narresh held a fashion show @Gulmarg. They displaced skiwear collection. This caused controversy where it’s been alleged that local sensitivities in the month of Ramadan wasn’t considered. Religious leaders,clerics slammed the ‘obscenity’ #gulmarg pic.twitter.com/VJLyRxzBQw
— Preeti Sompura (@sompura_preeti) March 9, 2025
تاہم پی ڈی پی کے ایم ایل اے میر محمد فیاض نے بھی اسمبلی میں اس تنازعہ کو لے کر اپنا اعتراض درج کرایا، کچھ دوسرے لیڈروں نے بھی براہ راست وزیراعلیٰ سے وضاحت طلب کی۔ ہنگامہ یہیں ختم نہیں ہوا،بلکہ کشمیر کے اعلیٰ مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے الزام لگایا ہے کہ سیاحت کو فروغ دینے کے نام پر اس طرح کی فحاشی برداشت نہیں کی جا سکتی۔واضح رہے کہ یہ ایک پرائیویٹ پارٹی تھی، اس لیے اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا۔ لیکن اب جب کہ ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں، تصاویر سامنے آئی ہیں،اور ہنگامہ تیز ہوا ہے تب تحقیقات کے احکامات ضروردے دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ منتظمین نے تمام تصاویر اور ویڈیوز کو بھی اب ڈیلیٹ کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

