Urdu Conclave 2026

Gulmarg Fashion Show: رمضان میں کشمیر کے اندر فیشن شو کا انعقاد،نیم برہنہ لباس میں نظرآئے لڑکے اور لڑکیاں،ہنگامہ ہونے پر سی ایم نے مانگی رپورٹ

کشمیر کے اعلیٰ مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے الزام لگایا ہے کہ سیاحت کو فروغ دینے  کے نام پر اس طرح کی فحاشی برداشت نہیں کی جا سکتی۔واضح رہے  کہ یہ ایک پرائیویٹ پارٹی تھی، اس لیے اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا۔

جموں و کشمیر کے گلمرگ میں منعقدہ ایک فیشن شو کو لے کر زبردست ہنگامہ ہورہا ہے۔ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ مسلم اکثریتی صوبہ کشمیر کے اندر رمضان کے مقدس مہینے میں کوئی ایسا شو کیسے منعقد کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ اب اس معاملے کی تحقیقات کر کے 24 گھنٹے میں رپورٹ دی جائے ۔ دراصل یہ فیشن شو گلمرگ کے ایک پرائیویٹ ریزورٹ میں منعقد کیا گیا تھا۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیوز کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ ریمپ واک کی گئی اور ویسٹرن اور دیگر لباسوں میں تصاویر کلک کی گئیں۔

اب یہ مسئلہ جموں و کشمیر اسمبلی میں اٹھایا گیا ہے۔ رہنماؤں کا موقف ہے کہ رمضان جیسے مہینے میں جب لوگ روزے رکھتے ہوں تو ایسی فحاشی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ سی ایم عمر عبداللہ نے پہلے کہا تھا کہ وہ اس معاملے سے لاعلم ہیں، لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ اس کی تفصیلی تحقیقات کی جائے گی اور ایسے پروگراموں کی نہ صرف رمضان بلکہ کسی بھی مہینے میں اجازت نہیں دی جاسکتی۔ سی ایم او آفس نے یہ بھی کہا ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

تاہم پی ڈی پی کے ایم ایل اے میر محمد فیاض نے بھی اسمبلی میں اس تنازعہ کو لے کر اپنا اعتراض درج کرایا، کچھ دوسرے لیڈروں نے بھی براہ راست وزیراعلیٰ سے وضاحت طلب کی۔ ہنگامہ یہیں ختم نہیں ہوا،بلکہ  کشمیر کے اعلیٰ مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے الزام لگایا ہے کہ سیاحت کو فروغ دینے  کے نام پر اس طرح کی فحاشی برداشت نہیں کی جا سکتی۔واضح رہے  کہ یہ ایک پرائیویٹ پارٹی تھی، اس لیے اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا۔ لیکن اب جب کہ ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں، تصاویر سامنے آئی ہیں،اور ہنگامہ تیز ہوا ہے تب  تحقیقات کے احکامات ضروردے  دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ منتظمین نے تمام تصاویر اور ویڈیوز کو بھی اب ڈیلیٹ کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read