احمد آباد کی ایک عدالت نے کانگریس پارٹی اور اس کے چار لیڈروں کو سوشل میڈیا سے ایک ڈیپ فیک ویڈیو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ اس ویڈیو میں وزیر اعظم نریندر مودی اور صنعت کار گوتم اڈانی کے درمیان ایک خیالی گفتگو دکھائی گئی ہے۔ عدالت نے اسے ہتکِ عزت پر مبنی قرار دیا ہے۔
کانگریس کے ویڈیو میں کیا تھا؟
یہ ویڈیو 17 دسمبر کو کانگریس کے ایکس ہینڈل پر پوسٹ کیا گیا تھا۔ اس میں مودی اور اڈانی کے درمیان خیالی گفتگو دکھائی گئی ہے۔ کیپشن تھا ’مودی–اڈانی بھائی بھائی، ملک بیچ کر کھائی ملائی‘۔ اس کے ذریعے اڈانی کمپنی پر بدعنوانی اور قومی اثاثے فروخت کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
سول ہتکِ عزت کا مقدمہ
اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ نے سول ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں جرائم، بدعنوانی، زمین ہڑپنے اور سیاسی اثر و رسوخ کے غلط استعمال جیسے جھوٹے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات مکمل طور پر بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہیں، جن سے کمپنی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
عدالت کا حکم کیا ہے؟
ایڈیشنل سول جج شری کانت شرما کی عدالت نے جمعرات کو حکم جاری کیا۔ کانگریس اور اس کے لیڈروں جے رام رمیش، سپریا شرینیت، پون کھیڑا اور ادے بھانو چِب کو 48 گھنٹوں کے اندر ویڈیو ہٹانا ہوگا۔ اگر ویڈیو نہ ہٹائی گئی تو ایکس کارپ اور گوگل کو 72 گھنٹوں کے اندر اسے ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اگلی سماعت 29 دسمبر کو ہوگی۔
عدالت نے کہا کہ ویڈیو میں بادی النظر میں ہتکِ عزت پر مبنی بیانات موجود ہیں۔ یہ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل سکتا ہے اور کمپنی کی ساکھ کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اڈانی گروپ بھارت کی ایک بڑی کمپنی ہے، جس کی 10 عوامی طور پر درج (پبلک ٹریڈڈ) کمپنیاں ہیں۔ کسی بھی قسم کی منفی پوسٹ اس کی شبیہ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایک بار ساکھ خراب ہو جائے تو وہ دوبارہ بحال نہیں ہوتی، اس لیے فوری روک لگانا ضروری ہے۔
کانگریس پر کیا اثر پڑے گا؟
یہ حکم کانگریس کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ پارٹی اکثر مودی–اڈانی تعلقات پر سوال اٹھاتی رہی ہے، لیکن ڈیپ فیک ویڈیو کی وجہ سے قانونی پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس طرح کا مواد پھیلانا اب مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈیپ فیک ٹیکنالوجی سے خطرہ
یہ معاملہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو اجاگر کرتا ہے۔ فرضی ویڈیوز کے ذریعے کسی کی شبیہ خراب کرنا آسان ہو گیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور فوری کارروائی کی۔
اب آگے اور کیا ہوگا؟
29 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں دونوں فریق اپنے دلائل پیش کریں گے۔ اس کے بعد واضح ہوگا کہ معاملہ آگے بڑھتا ہے یا نہیں، تاہم فی الحال ویڈیو کو ہٹانا ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


