Bharat Express DD Free Dish

Gen Naravane Memoir: جنرل نرونے نے توڑی خاموشی، کتابی تنازع کے بیچ پہلی بار ردعمل، ٹوئٹ میں لکھا- کتاب کی موجودہ حیثیت یہ ہے

سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے نے اپنی متنازع یادداشت ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ سے متعلق جاری بحث کے دوران پہلی بار عوامی طور پر ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر محض سات الفاظ میں کتاب کی موجودہ حیثیت واضح کی اور ساتھ ہی اس کے ناشر پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے باضابطہ بیان کو بھی ری پوسٹ کیا۔

نئی دہلی: سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے نے اپنی متنازع یادداشت ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ سے متعلق جاری بحث کے دوران پہلی بار عوامی طور پر ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر محض سات الفاظ میں کتاب کی موجودہ حیثیت واضح کی اور ساتھ ہی اس کے ناشر پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے باضابطہ بیان کو بھی ری پوسٹ کیا۔ یہ ردِعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کتاب کے مندرجات اور اس کی مبینہ دستیابی کو لے کر سیاسی اور عوامی سطح پر شدید بحث جاری ہے۔

جنرل نرونے نے کیا کہا؟
جنرل نرونے نے ایکس پر لکھا، ’’کتاب کی موجودہ حیثیت یہی ہے‘‘۔ ان کے اس مختصر بیان کو کتاب کے تنازع پر پہلی براہِ راست اور عوامی وضاحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل وہ اس معاملے پر خاموش تھے، جبکہ پبلشر کی جانب سے بارہا یہ کہا جا چکا تھا کہ کتاب تاحال شائع نہیں ہوئی۔

پینگوئن نے کیا کہا؟
پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا پہلے ہی ایک تفصیلی وضاحتی بیان جاری کر چکا ہے، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ کے اشاعتی حقوق مکمل طور پر اسی کے پاس محفوظ ہیں۔ پبلشر کے مطابق کتاب نہ تو شائع ہوئی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی پرنٹ یا ڈیجیٹل کاپی تیار، تقسیم یا فروخت کی گئی ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی شکل میں کتاب یا اس کے حصے گردش میں پائے جاتے ہیں تو وہ کاپی رائٹ کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے یہ بھی کہا کہ کتاب کی کسی بھی فارمیٹ میں موجودگی، خواہ وہ پرنٹ ہو، ڈیجیٹل ہو، پی ڈی ایف ہو یا کسی اور ذریعے سے آن لائن یا آف لائن دستیاب ہو، غیر قانونی ہے۔ پبلشر نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی بھی غیر مجاز اشاعت یا ترسیل کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی اور تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔

لوک سبھا سے شروع ہوا تنازعہ
یہ تنازعہ دراصل لوک سبھا سے شروع ہوا، جب اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے گزشتہ ہفتے صدرِ جمہوریہ کے خطبے پر شکریہ کی تحریک کے دوران جنرل نرونے کی ایک غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دینے کی کوشش کی۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ 31 اگست 2020 کو چینی فوج کے ٹینک بھارتی علاقے میں دیکھے گئے تھے اور اس معاملے پر اس وقت کے آرمی چیف نے سیاسی قیادت سے واضح ہدایات طلب کی تھیں، مگر انہیں کوئی ٹھوس حکم نہیں ملا۔ حکومت کی جانب سے اس بیان پر سخت اعتراض کیا گیا اور ماخذ پر سوال اٹھایا گیا۔ اس کے جواب میں راہل گاندھی نے کہا کہ یہ معلومات سابق آرمی چیف کی کتاب سے لی گئی ہیں۔ اس پر حکومت نے واضح کیا کہ مذکورہ کتاب ابھی تک شائع ہی نہیں ہوئی، لہٰذا اس کا حوالہ دینا درست نہیں ہے۔

دہلی پولیس نے درج کی ایف آئی آر
معاملہ بڑھنے کے بعد دہلی پولیس نے اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ غیر مطبوعہ کتاب کی کاپی کس طرح اور کن افراد تک پہنچی۔ حکام کے مطابق تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا واقعی کسی نے غیر قانونی طور پر کتاب کے مندرجات کو عام کیا یا نہیں، اور اگر ایسا ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read