صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے راشٹرپتی بھون میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے اعزاز میں پرشکوہ اسٹیٹ بینکوٹ کا اہتمام کیا، جس کے فوراً بعد وہ اپنے دورۂ بھارت کو اختتام پذیر کرکے ماسکو روانہ ہوئے۔ اس موقع پر ایک خصوصی موسیقی پیش کی گئی جس میں بھارتی کلاسیکی دھنوں اور روسی نغمگی کا خوبصورت امتزاج شامل تھا۔ تقریب میں پیش کیے گئے لذیذ پکوانوں نے بھارت کے متنوع اور بھرپور علاقائی ذائقوں کی نمائندگی کی۔ ضیافت کی شروعات جنوبی ہند کے روایتی مرونگلئی چارو (راسـم) سوپ سے ہوئی، جس کے بعد اشتہاء انگیز اسنیکس پیش کیے گئے جن میں گُچّھی دُون چین (خشک گُچّھی میں بھری کشمیری اخروٹ چٹنی)، کالے چنے کی شکم پوری (پین گِرلڈ کباب)، اور ویجیٹیبل جھول موموز مسالے دار چٹنی کے ساتھ شامل تھے۔ اہم کھانے میں زعفرانی پنیر رول، پالک میتھی مٹر کا ساگ، تندوری بھرون آلو، اچاری بینگن اور یلو دال تڑکا شامل تھے۔ ان کے ساتھ خشک میوہ و زعفرانی پلاؤ اور بھارتی روٹیوں کی ورائٹی— لچھا پراٹھا، مغز نان، ستاناج روٹی، مسّی روٹی اور بسکیٹی روٹی—پیش کی گئی۔ میٹھے میں بادام کا حلوہ، کیسری پستہ قلفی اور تازہ پھل شامل تھے، جن کے ساتھ روایتی لوازمات جیسے گُڑ سندیش، مُرُکّو اور مختلف اقسام کے اچار و سلاد رکھے گئے۔ مشروبات میں انار، مالٹا، گاجر اور ادرک کے مفید و صحت بخش جوس پیش کیے گئے، جنہوں نے ضیافت کو مزید دلکش بنا دیا۔

تقریب میں راشٹرپتی بھون نیول بینڈ نے ممتاز کلاسیکی سازندوں کے ایک منفرد گروہ کے ساتھ مل کر شاندار موسیقی پیش کی۔ موسیقی کے انتخاب میں بھارتی اور روسی دھنوں کا حسین امتزاج شامل تھا۔ پرفارمنس میں بھارتی راگ بستوں ‘امرت ورشنی’، ‘کھماج’، ‘یمن’، ‘شیورنجنی’، ‘نلین کانتی’، ‘بھیروی’ اور ‘دیش’ پیش کیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور روسی دھنیں ‘کالنکا’، چائیکووَسکی کی ’نٹ کریکر سوئٹ‘ کے منتخب حصے، اور ہندی فلم کا معروف نغمہ ‘پھر بھی دل ہے ہندوستانی’ بھی بجایا گیا، جس نے محفل کا ماحول مزید دلکش بنا دیا۔

بینکوئٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر ولادیمیر پوتن نے بھارت اور روس کے درمیان مضبوط شراکت داری کو اجاگر کیا اور کہا کہ ان کی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے منظور کی گئی مشترکہ اعلامیہ میں سیاست، سلامتی، معیشت و تجارت، توانائی، تعلیم اور دیگر شعبوں میں وسیع تعاون کا خاکہ شامل ہے۔ پوتن نے کہا: ’’15 سال قبل ہم نے ایک اہم اعلامیہ پر دستخط کیے تھے جس نے ہمارے تعلقات کو ایک نئی سطح—یعنی خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری—تک پہنچایا۔ یہ شراکت داری برابری، احترام اور ایک دوسرے کے مفادات کے باہمی لحاظ کے اصولوں پر مبنی ہے اور مسلسل مضبوط تر ہو رہی ہے۔ کل اور آج ہمارے ہندوستانی دوستوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت واقعی کھلی، بامعنی اور تعمیری رہی۔ جو اعلامیہ ہم نے منظور کیا ہے اُس میں سیاست، سلامتی، معیشت اور تجارت، توانائی، تعلیم اور دیگر شعبوں میں وسیع تعاون شامل ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اعلامیہ اور دیگر دستاویزات ہمارے دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں ایک مضبوط محرک ثابت ہوں گی۔‘‘ صدر پوتن نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایک زیادہ منصفانہ اور عادلانہ عالمی نظام کی تشکیل کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور بھارت-روس تعلقات کی نوعیت کو انہوں نے یوں بیان کیا:
“ساتھ چلیں، ساتھ بڑھیں”
صدر دروپدی مرمو نے روسی صدر کا استقبال کرتے ہوئے کہا: ’’آج کا دن ہمارے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہم بھارت۔روس اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 برس کا جشن منا رہے ہیں۔ بھارت اور روس کی شراکت داری امن، استحکام اور باہمی سماجی، اقتصادی اور ٹیکنالوجیکل ترقی کے مشترکہ عزم پر مبنی ہے۔ سال 2025 ہماری ہمہ جہت شراکت داری کے لیے نہایت کامیاب ثابت ہوا ہے۔ 23ویں بھارت۔روس سالانہ سربراہی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ ہمارے خصوصی تعلقات کا عکاس ہے اور دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے ایک جامع روڈمیپ فراہم کرتا ہے۔‘‘ صدر پوتن عشائیے کے فوراً بعد دہلی سے روانہ ہو گئے، جہاں وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے انہیں رخصت کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

