نئی دہلی : اسٹارلنک کے معاملے پر امریکی صنعت کار ایلون مسک اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے درمیان سوشل میڈیا پر تبادلۂ خیال، بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کے لیے لائسنس کا معاملہ پھر زیر بحثاسٹارلنک کے معاملے پر امریکی صنعت کار ایلون مسک اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے درمیان سوشل میڈیا پر بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ یہ صورت حال واقعی تشویش ناک ہے۔ اس سے پہلے مسک نے بھارت کے ایک بڑے صنعت کار کا نام لیے بغیر ملک میں اجارہ داری قائم رکھنے والے بااثر گروپوں پر سوال اٹھائے تھے۔ایلون مسک نے راہل گاندھی کی پوسٹ کے جواب میں لکھا، ’’شکریہ راہل۔ یہ واقعی تشویش ناک ہے۔‘‘ دراصل، اس سے پہلے راہل گاندھی نے اسٹارلنک کو بھارت میں لائسنس نہ ملنے کے معاملے پر سوال اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسٹارلنک کو 165 سے زیادہ ممالک میں لائسنس حاصل ہے اور کمپنی گزشتہ پانچ برسوں سے بھارتی حکومت کے تمام قوانین اور تقاضوں کی پابندی کر رہی ہے۔ اس کے باوجود اسے اب تک بھارت میں لائسنس کیوں نہیں ملا؟
راہل گاندھی نے کیا جواب دیا؟
راہل گاندھی نے ایلون مسک کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا تھا، ’’ایلون، بھارت میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ دوسرے شخص سے ملیں گے تو مزید جانکاری ملے گی۔‘‘ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں کسی کا نام نہیں لیا۔ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک بھارت میں اپنی خدمات شروع کرنے کے لیے لائسنس اور ضروری منظوریوں کے عمل سے گزر رہی ہے۔ ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے میں مسابقت اور مختلف کمپنیوں کی خدمات کو لے کر بحث تیز ہو رہی ہے۔
پہلے بھی اجارہ داری کا معاملہ اٹھا چکے ہیں ایلون مسک
ایلون مسک نے اس سے پہلے بھی بھارت میں اسٹارلنک کی خدمات شروع کرنے کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا، ’’بدقسمتی سے، کچھ بااثر گروپ بھارتی عوام پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے ہمیں روک رہے ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔ یہ بھارت کے لوگوں کے خلاف جرم ہے۔‘‘اس بیان میں مسک نے کسی گروپ کا نام واضح طور پر نہیں لیا تھا۔ ان کے اس تبصرے کو بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات کے شعبے میں مسابقت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔اسپیس ایکس کی ایک عہدیدار لارین ڈریئر نے بھی کہا تھا کہ اسٹارلنک بھارت میں اپنی خدمات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق، کمپنی نے بھارتی بازار میں خدمات فراہم کرنے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی تیاری پر سرمایہ کاری کی ہے۔
اسٹارلنک، جیو سیٹ کام اور ون ویب کو ملا لائسنس
بھارتی حکومت نے اسٹارلنک، جیو سیٹ کام اور یوٹیل سیٹ ون ویب کو ملک میں سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات شروع کرنے کے لیے لائسنس دیے ہیں۔ تاہم، خدمات شروع کرنے سے پہلے ان تینوں کمپنیوں کو اسپیکٹرم کی تقسیم اور سلامتی سے متعلق منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔اس طرح، بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات شروع کرنے کے معاملے میں لائسنس کے ساتھ ساتھ اسپیکٹرم کی دستیابی اور سلامتی کی منظوری بھی اہم ہے۔ ایلون مسک اور راہل گاندھی کے درمیان سوشل میڈیا پر ہونے والی یہ بات چیت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں اس شعبے میں مسابقت اور خدمات کی توسیع پر توجہ مرکوز ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


