Bharat Express DD Free Dish

After Dharmendra Pradhan Resign: دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد دہلی میں سیاسی سرگرمیاں تیز، وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اچانک دہلی روانہ

مرکزی وزیرِ تعلیم کے عہدے سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد دہلی سے لے کر مہاراشٹر تک سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔

مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے عہدے سے استعفے کے بعد دارالحکومت دہلی سے لے کر مہاراشٹر تک سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی دوران مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس ہفتے کی دوپہر اچانک دہلی روانہ ہو گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ شام تک دہلی پہنچ جائیں گے۔ اگرچہ ان کے اس دورے کو لے کر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کا یہ دورہ بنیادی طور پر سرکاری امور سے متعلق ہے۔دوسری جانب مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے فی الحال ممبئی میں موجود ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر فڑنویس کے دہلی دورے پر مختلف اندازے لگائے جا رہے ہیں۔ ادھر دہلی میں بھی اہم رہنماؤں کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی، جبکہ بی جے پی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے دھرمیندر پردھان سے بات چیت کی۔

اپوزیشن نے استعفے کو نوجوانوں کی جیت قرار دیا

دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد اپوزیشن نے حکومت پر حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ نیٹ-یو جی (NEET-UG) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور طلبہ کے طویل احتجاج کے دباؤ کے باعث حکومت کو یہ فیصلہ کرنا پڑا۔کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے سچائی اور ملک کے کروڑوں نوجوانوں کی فتح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے جو آواز بلند کی تھی، اس کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔

ادھر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کے سربراہ شرد پوار نے بھی طلبہ کی تحریک کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے مسلسل 28 دن تک جدوجہد کی، جس کے بعد حکومت کو اپنی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اپوزیشن اب وزیر اعظم نریندر مودی سے معافی کا مطالبہ کر رہی ہے اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائی کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔

استعفے کے بعد دھرمیندر پردھان کا جذباتی پیغام

استعفے کا اعلان کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام بھی جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے قوم کی خدمت ہمیشہ اولین ترجیح رہی ہے۔ نیٹ-یو جی امتحان سے متعلق تنازع اور طلبہ کی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں کے واقعات نے انہیں گہرا دکھ پہنچایا ہے۔

پردھان نے واضح کیا کہ یہ معاملہ ان کی ذاتی ساکھ سے متعلق نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ہی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہیں اور کسی بھی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے نیٹ امتحان میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی اس معاملے سے خود کو الگ رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کا مقصد ہمیشہ یہ رہا کہ امتحانی مافیا یا کسی بھی غلط طریقۂ کار کی وجہ سے کسی محنتی اور باصلاحیت طالب علم کا مستقبل متاثر نہ ہو۔دھرمیندر پردھان نے کہا کہ طلبہ کا قیمتی وقت تعلیم حاصل کرنے اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے میں صرف ہونا چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read