Bharat Express DD Free Dish

Pakistani social media handles visibility: حکومت کی جوابدہی طے ہونی چاہئے، پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بھارت میں دستیابی پر کانگریس کا سخت وار

ہند- پاک کشیدگی کے بعد کئی پاکستانی اداکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس جن میں ماورا حسین، صبا قمر، احد رضا میر، یمنا زیدی اور دانش تیمور شامل ہیں ہندوستان میں پھر سے ایکٹیو ہوگئے تھے جنہیں بعد میں بند کردیا گیا۔

نئی دہلی: کانگریس لیڈر ڈاکٹر شمع محمد نے آج بھارت میں متعدد پاکستانی یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی دستیابی پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس معاملے پر وزیر اعظم سے جواب طلب کیا۔ اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کانگریس رہنما نے کہا کہ چار دہشت گرد آزادانہ گھوم رہے ہیں، انہیں ابھی تک پکڑا نہیں گیا۔ یو پی اے حکومت کے وقت 26/11 کے بعد ہم نے اجمل قصاب کو پکڑا اور اسے پھانسی دی… موجودہ حکومت کی پاکستانیوں سے اتنی اچھی دوستی ہے کہ انہوں نے پاکستانی کرکٹرز اور یوٹیوبرز کے سوشل میڈیا چینلز پر سے پابندی بھی ہٹا دی۔ وزیر اعظم مودی کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب بدھ کے روز چند پاکستانی فنکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھارتی صارفین کو مختصر وقت کے لیے دستیاب نظر آئے جن میں ماورا حسین، صبا قمر، احد رضا میر، یمنا زیدی اور دانش تیمور شامل ہیں ۔

کانگریس لیڈر ڈاکٹر شمع محمد

جمعرات کی صبح تک یہ اکاؤنٹس بھارت میں دوبارہ بند کر دیے گئے

یہ پیش رفت سوشل میڈیا پر شدید غصے کا باعث بنی۔ تاہم جمعرات کی صبح تک یہ اکاؤنٹس بھارت میں دوبارہ بند کر دیے گئے۔ اب اگر صارفین ان کے اکاؤنٹس تلاش کریں تو ایک پیغام نظر آتا ہے: بھارت میں یہ اکاؤنٹ دستیاب نہیں ہے۔ یہ مواد محدود کرنے کی قانونی درخواست کی تعمیل کے باعث ہے۔ بھارت نے کئی پاکستانی فنکاروں اور کرکٹرز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی اس وقت عائد کی تھی جب انہوں نے بھارت کے خلاف مبینہ طور پر زہریلا اور مخالف مواد پوسٹ کیا تھا، خصوصاً 7 مئی کو پہلگام میں دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیے گئے آپریشن سندور کے بعد۔ یہ فوجی آپریشن بھارت اور پاکستان کے درمیان تقریباً چار روز تک جاری شدید کشیدگی کا سبب بنا۔

اس سے قبل، اپریل میں، بھارت نے 16 پاکستانی یوٹیوب چینلز پر بھی پابندی عائد کی تھی، جو بھارت، اس کی فوج اور سلامتی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ مواد، ساتھ ہی جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہے تھے۔ یہ کارروائی وزارت داخلہ (MHA) کی سفارشات کے تحت کی گئی تھی۔ ان یوٹیوب چینلز پر بھارت کی قومی سلامتی، خارجہ تعلقات اور امن عامہ کے بارے میں جھوٹی اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے کا الزام تھا۔ ان چینلز کی مجموعی ناظرین کی تعداد کافی زیادہ تھی۔

پاکستانی اداکاروں کے انسٹا اکاؤنٹس ایکٹیو ہونے پر حیرانی

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے پاکستانی اداکاروں کے انسٹا اکاؤنٹس ایکٹیو ہونے پر حیرانی ظاہر کی ہے۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے تو براہ راست یہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہند-پاک کشیدگی ختم ہو گئی ہے؟ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس تعلق سے تبصروں کا سیلاب دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خاص طور سے پاکستانی اداکارہ ماؤرا ہوکین اور صبا قمر جیسی ہستیوں کے انسٹا اکاؤنٹس ہندوستان میں کھلنے پر حیرانی ظاہر کی جا رہی ہے۔

ماہرہ خان، ہانیہ عامر، فواد خان اور عاطف اسلم پر پابندی رہی برقرار

ایک سوشل میڈیا صارف نے ایکس پر لکھا ہے کہ کئی پاکستانی اداکاراؤں کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پابندی کو ہندوستان میں خاموشی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ابھی تک کوئی آفیشیل اعلان نہیں ہوا ہے، لیکن ایسا ہو رہا ہے۔ کیا ہم معمول والی حالت میں واپس آگئے ہیں؟ ایک دیگر صارف نے لکھا ہے کہ پاکستانی اداکارہ ماورا ہوکین کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پابندی ہندوستان میں 2 ماہ بعد ہٹ گئی۔ حالانکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں ماہرہ خان، ہانیہ عامر، فواد خان اور عاطف اسلم جیسے آرٹسٹوں کے انسٹا اکاؤنٹس اب بھی بین ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ آخر کچھ چنندہ اداکاروں کے ہی اکاؤنٹ سے ہی ہندوستان میں پابندی کیوں ہٹا دی گئی ہے؟ پابندی ہٹنے اور دوبارہ ان اکاؤنٹس کی عدم دستیابی پر حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read