Bharat Express DD Free Dish

Congress on Temple Demolition in Pakistan: ’’پاکستان میں مندر توڑنا غلط…‘‘، کانگریسی لیڈران نے کیا برہمی کا اظہار

کانگریس لیڈر عمران مسعود نے کہا کہ مذہبی مقام کہیں کا بھی ہو، اسے توڑنا افسوسناک ہے۔ یہ ایسے مذہبی مقامات ہیں جو ملکوں کے وجود میں آنے سے پہلے کے ہیں، انہیں منہدم کرنا مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔

کانگریس لیڈر عمران مسعود۔

نئی دہلی: پاکستان میں 100 سال پرانے مندر کو منہدم کیے جانے پر اپوزیشن کے لیڈران نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی مقامات پر توڑ پھوڑ کی کارروائی غلط ہے۔ کانگریس لیڈر عمران مسعود نے کہا کہ مذہبی مقام کہیں کا بھی ہو، اسے توڑنا افسوسناک ہے۔ یہ ایسے مذہبی مقامات ہیں جو ملکوں کے وجود میں آنے سے پہلے کے ہیں، انہیں منہدم کرنا مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔

’’مذہبی مقامات پر کارروائی سے پہلے غور کرنا چاہیے‘‘

کانگریس رکن پارلیمنٹ منوج کمار نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مندر، مسجد اور چرچ سے لوگوں کی عقیدت وابستہ ہوتی ہے۔ ہندوؤں کی آستھا مندر سے، مسلمانوں کی مسجد سے اور عیسائیوں کی عقیدت چرچ سے جڑی ہے۔ مذہبی مقامات کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے اس پر غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اگر اس کے پیچھے کوئی وجہ ہے تو وہاں کی حکومت کو لوگوں کو مناسب طریقے سے جواب دینا چاہیے۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتیں محفوظ نہیں: ڈاکٹر ادت راج

کانگریس لیڈر ادت راج نے کہا، ’’پاکستان ایک ناکام ملک ہے، یہ ایک مذہبی ملک ہے۔ اسی راستے پر یہ حکومت بھی چلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہاں جمہوریت نہیں ہے، اس لیے مذہبی اقلیتیں وہاں محفوظ نہیں ہیں۔ عیسائی غائب ہو گئے ہیں، اور دوسری بات یہ ہے کہ سکھ بھی وہاں سے چلے گئے ہیں۔ تقسیم کے بعد ہندوؤں اور مسلمانوں کی تقسیم ہوئی اور اس کے بعد سے ہندو بھی وہاں سے آتے رہے ہیں۔‘‘

رام مندر کے CEO کی تقرری پر عمران مسعود کا سوال

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے رام مندر کے سی ای او کے طور پر ایئر مارشل (ریٹائرڈ) جتیندر مشرا کی تقرری پر کہا، ’’یہ میرا موضوع نہیں ہے۔ یہ کام تو سادھو سنتوں کو کرنا تھا۔ کیا انہیں کوئی ایماندار سادھو یا سنت نہیں ملا؟ چوری اس لیے ہوئی کیونکہ یہ کام سادھو سنتوں سے چھین لیا گیا تھا۔ ورنہ کیا رام للا کا کام پہلے سے نہیں چل رہا تھا؟‘‘

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read