مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی۔
کولکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعہ کے روز کولکتہ کے دو پولیس تھانوں میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے انڈیا پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) کے دفتر اور اس کے کو-فاؤنڈر پرتیک جین کے گھر پر بیک وقت کی گئی چھاپہ ماری اور تلاشی مہم کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔
دونوں شکایات میں کسی ای ڈی افسر کا نام درج نہیں
ذرائع کے مطابق، ایک شکایت کولکتہ پولیس کے شیکسپیئر سرانی پولیس اسٹیشن میں جبکہ دوسری الیکٹرانک کمپلیکس پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ہے۔ حالانکہ، ان دونوں شکایات میں نہ تو کسی ای ڈی افسر کا نام درج کیا گیا ہے اور نہ ہی مرکزی مسلح پولیس فورس (سی اے پی ایف) کے کسی جوان کا۔ یہ شکایات نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی ہیں۔
شکایات پر وزیر مملکت سوکانت مجومدار کا ردعمل
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے دو پولیس تھانوں میں درج کرائی گئی شکایات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت اور مغربی بنگال میں بی جے پی کے سابق ریاستی صدر سوکانت مجومدار نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ وزیر اعلیٰ نے ایک بزنس مین کو بچانے کے لیے خود دو تھانوں میں شکایت درج کرائی۔ مجومدار نے کہا، ’’میں وزیرِ اعلیٰ سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ کم از کم اپنے عہدے کے وقار کو برقرار رکھیں۔‘‘
چھاپہ ماری سے متعلق 3 عرضیوں پر ہوگی سماعت
کلکتہ ہائی کورٹ کی جسٹس سُورا گھوش کی سنگل جج بنچ آج ای ڈی کی آئی-پیک چھاپہ ماری سے متعلق تین عرضیوں پر سماعت کرے گی۔ کلیدی عرضی ای ڈی کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ان دونوں مقامات پر چھاپہ ماری اور تلاشی کارروائی کے دوران مرکزی ایجنسی کے افسران کے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈال کر اپنے آئینی عہدے کا غلط استعمال کیا۔ ای ڈی کی اس کلیدی عرضی کے خلاف پرتیک جین اور ترنمول کانگریس کی جانب سے دو جوابی عرضیاں بھی دائر کی گئی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
