چنڈی گڑھ: پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کہا ہے کہ ریاست کے اہم مسائل پر اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی اور کسانوں و عوام کو جن بڑے فیصلوں کی امید تھی وہ پوری نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے لوگ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)، کسانوں کے قرضوں کی معافی اور خصوصی اقتصادی پیکیج جیسے اعلانات کی توقع کر رہے تھے، مگر انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بات پروگریسو پنجاب انویسٹرز سمٹ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت مسلسل پنجاب کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے اور ریاست کے واجب الادا فنڈز روک کر ترقیاتی عمل کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کسانوں کے مطالبات کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا، جس سے ریاست کے زرعی شعبے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ بھگونت مان نے کہا کہ پنجاب کے کسانوں اور شہریوں کو امید تھی کہ اس موقع پر ان کے مسائل کے حل کے لیے اہم فیصلوں کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو توقع تھی کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پنجاب کے کسانوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت کی قانونی ضمانت، زرعی قرضوں کی معافی یا کسی خصوصی مالی پیکیج کے بارے میں اعلان کریں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے کسان طویل عرصے سے اپنی فصلوں کے لیے ایم ایس پی کی قانونی ضمانت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کسانوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے قرضوں کی معافی اور دیگر امدادی اقدامات بھی ضروری ہیں، مگر ان معاملات پر ابھی تک کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے مرکز کی جانب سے ریاستی فنڈز روکنے کے مسئلے پر بھی سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت نے پنجاب کے دیہی ترقیاتی فنڈ (آر ڈی ایف) اور جی ایس ٹی کے واجب الادا حصے کو روک رکھا ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے اعلان کردہ 1600 کروڑ روپے کی امدادی رقم بھی ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔ بھگونت مان نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے سیلابی امداد کے بڑے اعلانات کیے گئے تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کو اب تک اس اعلان میں سے ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو درپیش مالی مشکلات کو دور کرنے کے لیے مرکز کو فوری طور پر یہ فنڈز جاری کرنے چاہئیں۔
وزیر اعلیٰ نے منشیات کی اسمگلنگ کے مسئلے پر بھی مرکز کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سرحد کی نگرانی اور سرحد پار سے ہونے والی اسمگلنگ کو روکنا بنیادی طور پر مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس کے باوجود پنجاب حکومت اپنے وسائل سے اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ روکنے کے لیے جدید اینٹی ڈرون نظام نصب کیا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 550 کلومیٹر طویل سرحدی علاقے میں یہ ٹیکنالوجی نصب کی جا رہی ہے تاکہ سرحد پار سے آنے والی غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے۔
بھگونت مان نے سیاسی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی سرزمین محبت، بھائی چارے اور اتحاد کی علامت ہے اور یہاں نفرت کی سیاست کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام کسی بھی ایسی سیاست کو مسترد کر دیں گے جو معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اب تک ریاست میں 65 ہزار سے زائد سرکاری ملازمتیں فراہم کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسانوں کے مفاد میں سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کی بارہا اپیل کی گئی ہے، لیکن مرکزی حکومت نے اس سمت میں ابھی تک کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ ان کے مطابق اگر ان سفارشات پر عمل کیا جائے تو کسانوں کی معاشی حالت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



