نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آٹھویں جماعت کی این سی ای آر ٹی کی سوشل سائنس کی کتاب میں شامل عدلیہ سے متعلق متنازع باب پر از خود نوٹس لیتے ہوئے جمعرات 26 فروری 2026 کو سماعت کی، جس دوران چیف جسٹس سوریہ کانت شدید برہمی کا اظہار کرتے نظر آئے۔ سماعت کے دوران محکمہ تعلیم کی جانب سے عدالت عظمیٰ سے معافی طلب کی گئی، تاہم چیف جسٹس نے واضح طور پر کہا کہ صرف معافی کافی نہیں ہوگی اور جب تک یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس کے پیچھے کون لوگ ذمہ دار ہیں، سماعت جاری رہے گی۔چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔ حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا عدالت میں پیش ہوئے جبکہ سینئر وکلا کپل سبل اور ابھیشیک منو سنگھوی نے بھی کتاب میں شامل باب پر اعتراضات اٹھائے۔ آٹھویں جماعت کی نئی سوشل سائنس کتاب میں ’’عدلیہ میں بدعنوانی‘‘ کے عنوان سے شامل باب میں عدالتوں میں زیر التوا مقدمات سمیت کئی حساس نکات کا ذکر کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جمہوری نظام کے تین بنیادی ستون یعنی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ملک کے نظام کو چلانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اخبار کے ذریعے انہیں کتاب کے مندرجات کے بارے میں معلوم ہوا، جسے پڑھ کر شدید صدمہ پہنچا۔ عدالت نے متنازع اقتباسات کو حکم نامے میں دوبارہ درج کرنے سے بھی گریز کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ عدلیہ میں بدعنوانی عام ہے، جو انتہائی توہین آمیز عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خبر پڑھنے کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ کے سیکریٹری جنرل کو حقیقت جاننے کی ہدایت دی، جس پر این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر نے مواد کو درست قرار دیا، جو مزید تشویشناک بات تھی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ بظاہر یہ اقدام سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عدلیہ کی وقار کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے کیا گیا۔ چیف جسٹس کے مطابق اگر یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے تو یہ مجرمانہ توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کتابیں صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ اساتذہ، والدین اور پورے معاشرے تک پہنچتی ہیں، اس لیے اس کے اثرات وسیع اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے محکمہ تعلیم کو ہدایت دی کہ مارکیٹ اور اسکولوں میں بھیجی گئی تمام کتابیں فوری طور پر واپس لی جائیں اور آن لائن دستیاب مواد بھی ہٹا دیا جائے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ باب کو ہٹا دیا جائے گا کیونکہ کتاب پہلے ہی عوام تک پہنچ چکی ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ کتاب میں شہری حقوق کے تحفظ میں عدلیہ کے اہم کردار کو نظر انداز کیا گیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ نے بدعنوانی کے خلاف متعدد اہم فیصلے دیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عدالت تعمیری تنقید کی مخالف نہیں، مگر کم عمر بچوں کے سامنے جانبدارانہ مواد پیش کرنا ان کی سوچ کو متاثر کر سکتا ہے اور مستقبل کی نسلوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

