Urdu Conclave 2026

NCERT Books

کانگریس نے اس فیصلے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ کانگریس لیڈر جیوردھن سنگھ نے بی جے پی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت بچوں کی درسی کتابوں میں بھی سیاست کر رہی ہے۔انہوں نے کہا:"بی جے پی کی واحد الیسی لوگوں کے ذہنوں میں ابہام پیدا کرنا اور ان کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا ہے۔

دوسری جانب عدالت نے واضح کیا کہ تعلیمی مواد میں توازن اور غیر جانبداری ضروری ہے۔ بینچ نے نشاندہی کی کہ متنازعہ باب میں عدلیہ میں کرپشن کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا تھا، جبکہ عدلیہ کے مثبت پہلوؤں جیسے قانونی خدمات تک رسائی اور ججوں کے کردار کو نظر انداز کیا گیا

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جمہوری نظام کے تین بنیادی ستون یعنی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ملک کے نظام کو چلانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اخبار کے ذریعے انہیں کتاب کے مندرجات کے بارے میں معلوم ہوا،

نئی نصابی کتاب، جس کا عنوان ’’ایکسپلورنگ سوسائٹی: انڈیا اینڈ بیونڈ، پارٹ-1‘‘ ہے، تاریخ، جغرافیہ اور سماجی اور سیاسی زندگی سے متعلق پرانی تین کتابوں کی جگہ لے گی۔

مجھے شک ہے کہ یہ نصاب کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت شامل کیا گیا ہے، جہاں ایک ہندو لڑکی ایک مسلمان دوست کو خط لکھ رہی ہے۔ دیپتی رینا کو خط لکھ سکتی ہے۔ رینا رام کو خط لکھ سکتی ہے۔ لیکن مجھے رینا کے احمد کو خط لکھنے پر اعتراض ہے۔ اس لیے میں یہاں میمورنڈم دینے آیا ہوں۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

NCERT کی 12ویں پولیٹیکل سائنس کی کتاب میں جو تبدیلیاں آئی ہیں وہ ان نئی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہیں جو حالیہ دنوں میں ہندوستان کی سیاست میں ہوئی ہیں۔

دنیش سکلانی نے گجرات فسادات-بابری مسجد کے موضوعات کو کتابوں سے ہٹانے پر کہا، ’’اگر کوئی چیز غیر متعلقہ ہو جائے تو اسے بدلنا ہوگا۔ اسکولوں میں تاریخ کو میدان جنگ بنانے کے لیے نہیں بلکہ حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے پڑھایا جاتا ہے۔

کچھ جگہیں جہاں پہلے مسلم کمیونٹی کا ذکر تھا وہ بھی تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ باب 5 میں ہی مسلمانوں کو ترقی کے ثمرات سے 'محروم' کرنے کا حوالہ ہٹا دیا گیا ہے۔