نئی دہلی : کوکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے رہنما آشوتوش رنکا نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ CJP کی ابھی صرف شروعات ہوئی ہے۔ آشوتوش رنکا اتوار (27 ستمبر) کو گوہاٹی پہنچے تھے، جہاں انہیں CJP کی ایک میٹنگ میں شرکت کرنی تھی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پولیس نے انہیں میٹنگ کرنے سے روک دیا۔ اس کے بعد رنکا کو حراست میں لے لیا گیا، تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ CJP کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔
حراست سے رہائی کے بعد آشوتوش رنکا کا پیغام
حراست سے رہائی کے بعد آشوتوش رنکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ انہوں نے لکھا، ’’ہیمنت بسوا سرما، آسام کے کوکروچوں نے ابھی صرف شروعات کی ہے۔‘‘آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ کچھ لوگوں کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
رنکا کی حراست پر کیا بولے ابھیجیت دیپکے؟
آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا۔ اس پر CJP کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا، ’’میں بھی کل پولیس اسٹیشن میں تمہارے ساتھ احتجاج میں شامل ہونے والا تھا۔‘‘
40 سے زائد کارکنان بھی حراست میں لیے گئے
رپورٹ کے مطابق آشوتوش رنکا اور CJP کے 40 سے زائد کارکنان کو پولیس نے دن میں ہونے والی میٹنگ سے قبل چودھری ٹیلا میں آسام کی اپوزیشن جماعت آسام جاتیہ پریشد (AJP) کی رہنما کنکی چودھری کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا تھا۔حراست میں لیے گئے افراد کو گوہاٹی کے کاہلی پاڑہ علاقے میں واقع آسام پولیس کی 10ویں بٹالین کے ہیڈکوارٹر لے جایا گیا۔ تاہم پولیس کے افسران نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
پولیس پر غیر قانونی حراست کا الزام
رہائی کے بعد پریس کانفرنس میں آشوتوش رنکا نے کہا کہ آسام پولیس نے انہیں اور ان کی ٹیم کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا۔ انہوں نے کہا کہ جب پولیس سے حراست کی وجہ پوچھی گئی تو پولیس نے کہا کہ اسے اس بارے میں معلومات نہیں ہیں اور اسے ’اوپر سے احکامات‘ ملے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


