Urdu Conclave 2026

Supreme Court of India: اتر پردیش کی پولیس پر چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ کا سخت تبصرہ، انتظامیہ کے رویہ سے سپریم کورٹ سخت برہم

چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ اتر پردیش میں جو ہو رہا ہے، وہ سراسر غلط ہے۔ روزانہ دیوانی مقدمات کو مجرمانہ مقدمات میں بدلا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے رویہ پر عدالت عظمیٰ نے سخت تبصرہ کرنے کے ساتھ ہی آئندہ اس طرح کے معاملے سامنے آنے پر جرمانہ لگانے کی تنبیہ بھی کی۔

اتر پردیش کی پولیس پر آج چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ یہ ناراضگی انھوں نے ریاست میں دیوانی تنازعات (سول کیسز) کو مجرمانہ معاملوں میں بدلنے پر ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ اتر پردیش میں جو ہو رہا ہے، وہ سراسر غلط ہے۔ روزانہ دیوانی مقدمات کو مجرمانہ مقدمات میں بدلا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے رویہ پر عدالت عظمیٰ نے سخت تبصرہ کرنے کے ساتھ ہی آئندہ اس طرح کے معاملے سامنے آنے پر جرمانہ لگانے کی تنبیہ بھی کی۔

میں جانچ افسر کو گواہ کے کٹہرے میں آنے کو کہوں گا

عدالت عظمیٰ نے ایک معاملے پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے معنی ہے، صرف پیسہ نہ دینے کو جرم نہیں بنایا جا سکتا۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ میں جانچ افسر کو گواہ کے کٹہرے میں آنے کو کہوں گا۔ جانچ افسر کو گواہ کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر جرم کا معاملہ بنانے دیں، یہ درست رہے گا۔ آگے سے اس طرح کا کوئی بھی معاملہ سامنے آنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم ہدایت دیتے ہیں، اسے سبق سیکھنے دیں۔ یہ چارج شیٹ داخل کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ یہ عجیب ہے کہ اتر پردیش میں یہ اکثر ہو رہا ہے، وکیل بھول گئے ہیں کہ دیوانی حلقۂ اختیارات بھی ہیں۔

ہم پولیس پر جرمانہ عائد کریں گے

چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے تنبیہ کے انداز میں کہا کہ میں پولیس ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سے اس معاملے میں پیش قدمی کرنے کے لیے کہوں گا۔ یہ غلط ہے، ہم اس معاملے کو پاس اوور کر رہے ہیں، لیکن اب جو بھی معاملہ (اترپردیش میں) آئے گا، ہم پولیس پر جرمانہ عائد کریں گے۔ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے معاملوں پر گزشتہ سال دسمبر میں بھی کہا تھا کہ یہاں دیوانی تنازعات کو مجرمانہ معاملوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ فکر کا موضوع ہے۔ انھوں نے اس وقت دھوکہ دہی کے معاملے پر لگی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ یہاں لگاتار دیوانی تنازعات کو مجرمانہ تنازعات میں بدلا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ غلط روایت ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read