کولکتہ: ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے پارٹی کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کے واقعے میں بی جے پی کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے جمعرات کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم بے بنیاد الزامات نہیں لگا رہے ہیں بلکہ ہم نے اس سلسلے میں ویڈیو فوٹیج بھی دکھائی ہے، جس میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کے غنڈے دفتر میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے کہا کہ توڑ پھوڑ سے پہلے ان لوگوں نے سکیورٹی گارڈ سے موبائل فون چھین لیا اور لوہے کی سلاخ دکھا کر اسے دھمکی دی۔ اس کے بعد یہ لوگ دفتر میں داخل ہوئے اور جم کر توڑ پھوڑ کی۔ دفتر میں رکھی ہر چیز کو توڑ دیا گیا۔ ان غنڈوں نے سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی توڑنے کی کوشش کی، لیکن شاید کچھ کیمرے یہ لوگ توڑ نہیں پائے۔ اسی وجہ سے ہمارے پاس یہ ثبوت موجود ہے، جس میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ کس طرح ان لوگوں نے دفتر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی۔
اہم دستاویزات اور کمپیوٹر بھی کیے گئے تباہ
انہوں نے الزام لگایا کہ ان غنڈوں نے ہنگامہ کرتے ہوئے دفتر میں رکھے اہم دستاویزات اور کمپیوٹر جیسے ضروری آلات کو بھی تباہ کر دیا۔ یہ سب کچھ منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم لوگوں نے اس بارے میں اطلاع دینے کے لیے پولیس کو کئی مرتبہ فون کیا، لیکن پولیس کی جانب سے ہماری ایک بھی کال کا جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورا واقعہ صبح 4 بجے کا ہے، لیکن ہمارے فون کرنے کے بعد پولیس صبح 6 بجے موقع پر پہنچی۔ تب تک تمام حملہ آور وہاں سے جا چکے تھے۔ حالانکہ، ہمارے لوگوں نے 6 افراد کو پکڑ لیا ہے۔ اب پولیس کی جانب سے پورے احاطے کو سیل کر دیا گیا ہے۔
پولیس اور بی جے پی کا مشترکہ آپریشن
مہوا موئترا کے مطابق، یہ پولیس اور بی جے پی کا مشترکہ آپریشن ہے۔ ان لوگوں کا واحد مقصد ہمیں یہاں سے ہٹانا تھا۔ ان لوگوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ ہم ممتا بنرجی کو گھر سے باہر نہیں نکلنے دیں گے۔ ہمارے دیگر لیڈران کو بھی ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سمک بھٹاچاریہ کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب سمک بھٹاچاریہ کا بیٹا کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث پایا جاتا ہے تو ان کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ ان کا بیٹا نہیں ہے۔
ABVPسے بی جے پی کے تعلق پر سوال
انہوں نے بتایا کہ کچھ دن پہلے ہی وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ اب تمام ریاستی یونیورسٹیوں میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) ہی کامیاب ہوگی۔ دوسری جانب سمک بھٹاچاریہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی کوئی طلبہ تنظیم نہیں ہے۔ مہوا موئترا نے سوال کیا کہ کیا اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کا بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں ہے؟ اس بارے میں بی جے پی سے سوال کیا جانا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


