Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee: ’’بی جے پی بنگالی بولنے والے ہندوستانیوں کو بنگلہ دیشی قرار دے رہی ہے‘‘، ممتا بنرجی نے کیا دعویٰ

انھوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ درست دستاویز رکھنے والوں کو بھی غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن قرار دیا جا رہا ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پیر کے روز بی جے پی پر این ڈی اے حکومت والی ریاستوں میں بنگالی بولنے والے ہندوستانی شہریوں کو بھی بنگلہ دیشی قرار دے کر نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ درست دستاویز رکھنے والوں کو بھی غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن قرار دیا جا رہا ہے۔

اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب وزیر اعلیٰ نے بھگوا پارٹی پر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں بنگالی بولنے والوں کے خلاف ’وِچ ہنٹ‘ کا الزام لگایا۔ ممتابنرجی نے کہا کہ ’’آپ کو شرم آنی چاہیے کہ آپ حقیقی ہندوستانی شہریوں کو صرف اس وجہ سے بنگلہ دیشی قرار دے رہے ہیں کہ وہ بنگالی بولتے ہیں۔ ہر بنگالی بولنے والے کو اس پر اسی طرح فخر ہے جیسے کہ گجراتی، مراٹھی یا ہندی بولنے والوں کو۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں ان تمام زبانوں میں بات کر سکتی ہوں۔‘‘

مرکزی حکومت پر لگایا فنڈ روکنے کا الزام

انھوں نے مزید کہا ’’ایک طرف آپ ہندوستانیوں کو ان کی زبان کی وجہ سے بنگلہ دیشی قرار دے رہے ہیں اور دوسری طرف آپ ان لوگوں کو جن کے پاس ووٹر آئی ڈی، پین کارڈ اور آدھار کارڈ ہیں، ان کو اپنی ریاستوں میں روزی روٹی کمانے کے حق سے محروم کر رہے ہیں۔‘‘ ممتابنرجی کے اس بیان پر بی جے پی اراکین نے ہنگامہ کھڑا کر دیا، تاہم انھوں نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے مرکزی حکومت پر فنڈز کو روکنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے سوتیلی ماں کے سلوک کے باوجود، ریاست نے پاٹھ شری کے تحت 69,000 کلومیٹر سڑکیں بچھائی ہیں اور 11,000 کروڑ روپے سے آواس یوجنا شروع کی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ مالی بحران کے باوجود ریاست میں لوگوں کو اوسطاً 50 دن کا روزگار مل رہا ہے اور ان کی حکومت نے مختلف اسکیموں کے تحت 1.5 کروڑ منڈی بنائے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایک طرف آپ بنگال کے غریب عوام کو محروم کر رہے ہیں تو دوسری طرف آپ کی ریاستوں میں مختلف حادثات میں اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ بنرجی نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت سماجی بہبود سے متعلق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق درج فہرست ذاتوں (26 فیصد)، درج فہرست قبائل (6 فیصد)، پسماندہ ذاتوں اور مسلمانوں (30 فیصد) کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read