بریلی تشدد میں شامل ہونے کے الزام میں دو ملزمین کا پولیس نے انکاؤنٹر کیا ہے۔
سیبی گنج تھانہ علاقہ کے بنڈیا نہرکے پاس انکاؤنٹرہوا ہے۔ ادریس اوراقبال کوانکاؤنٹرکے بعد پولیس نے پکڑلیا ہے۔ اب دونوں پولیس حراست میں ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ جب پولیس ان تک پہنچی توبچنے کے لئے دونوں نے پولیس پرفائرنگ کی۔ جوابی فائرنگ میں دونوں ملزمین کے پیرمیں گولی لگی۔
بریلی تشدد میں اب تک 75 گرفتار
بریلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 73 ملزمین کوگرفتارکرلیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ ابھی سینکڑوں گرفتاریاں اورہونی ہیں۔ ادریس اور اقبال کوملاکرگرفتارملزمین کی تعداد 75 ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ابھی مزید گرفتاریاں ہوں گی۔ پولیس نے بتایا ہے کہ ادریس اور اقبال شاہجہاں پورکے رہنے والے ہیں۔ ادریس پرپہلے سے ہی 30 مقدمے درج تھے۔ وہیں، اقبال پربھی 17 کیس درج ہیں۔ پولیس کے مطابق، دونوں ملزمین بریلی میں ہنگامہ میں شامل ہونے کے لئے شاہجہاں پورسے آئے تھے۔ ادریس کے پاس سے اینٹی پلیئرگن بھی برآمد ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ فی الحال، پولیس نے ابتدائی علاج کے بعد دونوں کوحراست میں لے لیا ہے۔ اب ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی اورپولیس کی گرفت سے دورملزمین کی جانکاری جمع کی جائے گی۔
بریلی تشدد میں 3000 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر
بریلی پولیس ابھی مزید سینکڑوں لوگوں کوگرفتارکرسکتی ہے۔ کیونکہ تشدد معاملے میں جوایف آئی آرفائل کی گئی ہے، اس میں نامزد اور نا معلوم افراد کوملاکرکل 3000 لوگوں کے ثبوت پولیس کے پاس موجود ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ اس طرح سے ابھی گرفتاریوں کا سلسلہ چلتا رہے گا۔
مولانا توقیررضا کو بتایا جا رہا ہے ماسٹرمائنڈ
پولیس کے مطابق، ابتدائی جانچ میں ماسٹرمائنڈ کے طورپراتحاد ملت کونسل کے سربراہ مولانا توقیررضا خان کا ہی نام نکل کرسامنے آیا تھا۔ مولانا توقیررضا خان اوران کے تمام معاونین پرالزام ہے کہ تشدد کا منصوبہ لمبے وقت سے بنایا جا رہا تھا۔ پولیس اس بات کا دعویٰ کررہی ہے کہ اسے پہلے ہی جانکاری ملی تھی کہ احتجاج کے نام پرکوئی ناگہانی حادثہ ہوسکتا ہے۔ پولیس نے سمجھانے کی بھی کوشش کی تھی، لیکن ان کی بات نہیں مانی گئی تھی۔ اس کے بعد تشدد بھڑک گیا اوریہ معاملہ آدھے گھنٹے تک چلتا رہا۔ بعد میں پولیس نے مولانا توقیر رضا خان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



