Bharat Express DD Free Dish

Azam Khan Hate Speech Case: اعظم خان کوسپریم کورٹ سے جھٹکا، اشتعال انگیزتقریرمعاملے میں نہیں ملی راحت، سپریم کورٹ کا کیس ٹرانسفر کرنے سے انکار

سماجوادی پارٹی کے لیڈراعظم خان کو سپریم کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے ان کی طرف سے داخل ٹرانسفرعرضی کوخارج کردیا ہے۔ اعظم خان نے اپنی عرضی میں اترپردیش میں چل رہے سبھی مقدمات کا ٹرائل ریاست سے باہر کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان۔ (فائل فوٹو)

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کو سپریم کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے اعظم خان کی طرف سے داخل ٹرانسفرعرضی کو خارج کردیا ہے۔ اعظم خان نے اپنی عرضی میں اترپردیش میں چل رہے سبھی مقدمات کا ٹرائل ریاست سے باہرکرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ یوپی میں ان کے خلاف اتنے مقدمے درج ہیں کہ انہیں یہاں انصاف کی امید کا امکان نہیں ہے۔ عدالت نے عرضی کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عرضی گزار کی عدالتی ریکارڈ میں تبدیلی سے متعلق حل تلاش کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔

اپنی عرضی میں اعظم خان نے اترپردیش میں زیرالتوا 2007 کے اشتعال انگیزتقریر کے معاملے کی سماعت کو دہلی میں ٹرانسفر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عرضی میں ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا تھا۔ ان کی دلیل تھی کہ اشتعال انگیز تقریر کی فائل ریکارڈ میں ویڈیو کلپ کے طور پر پیش کی گئی تھی، لیکن اس میں چھیڑ چھاڑکرکے اسے آڈیو فائل میں تبدیل کردیا گیا۔

اعظم خان کی طرف سے کپل سبل نے دی دلیل

جسٹس ایم اے سندریش اور جسٹس این کے سنگھ کی بینچ کے سامنے اعظم خان کی طرف سے سینئر وکیل کپل سبل نے دلیل دی کہ عرضی گزار نے کلیپنگ کی مصدقہ کاپی حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ثبوت ایک ویڈیو کلپینگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرآپ کو اسے ویڈیو سے آڈیو میں تبدیل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو اس آڈیو پرغورکیا جائے گا اور مجھے قصوروار ٹھہرایا جائے گا۔ حقیقت میں عدالت کے ریکارڈ تبدیل کردیئے گئے ہیں۔

یہ معاملہ ٹرانفسرکرنے کی کوئی بنیاد نہیں: عدالت

حالانکہ جسٹس سندریش نے زبانی طورپر تبصرہ کیا کہ یہ معاملے کو منتقل کرنے کی بنیاد نہیں ہوسکتا۔ جسٹس سندریش نے ٹرانسفرعرضی خارج کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو بھی کرنا چاہیں، یہ منتقل کرنے کی بنیاد نہیں ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ عرضی کا یہ نمٹارہ عرضی گزار کوعدالتی ریکارڈ میں تبدیلی سے متعلق حل تلاش کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read