آسام میں یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) بل 2026 پیش کردیا گیا ہے۔ آسام حکومت کے وزیراروپ بورا نے پیر(25 مئی) کوریاستی اسمبلی میں یوسی سی، آسام، 2026 بل پیش کیا۔ اس بل میں ریاست کے تمام باشندوں کے لئے شادی، طلاق، وراثت اورلیو-ان ریلیشن کوکنٹرول کرنے کے لیے ایک یکساں سول قانونی ڈھانچہ تجویزکیا گیا ہے، جبکہ ان کے آئینی تحفظات کے تحفظ کے لئے درج فہرست قبائل کوباہررکھا گیا ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد مذہب پرمبنی قوانین کویکساں ضابطے سے بدلنا ہے، جس سے تمام کمیونٹیزمیں صنفی انصاف، مساوات اورقانونی یکسانیت کو یقینی بنایا جائے۔
اس بل کے تحت ایک شادی کولازمی قراردیا گیا ہے، جبکہ شادی کی قانونی عمرمردوں کے لئے 21 سال اورخواتین کے لئے 18 سال مقررکی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ قانون موجودہ رسم ورواج اورتقاریب کے مطابق شادیاں کرنے کی اجازت دے کرثقافتی اورمذہبی تنوع کوبھی برقراررکھتا ہے۔ ان میں ویدک شادی، آہوم چکلونگ، سپتپدی، نکاح، پویترملن اورآنند کارج شامل ہیں۔ یہ بل پوری ریاست میں شادیوں اورطلاقوں کا رجسٹریشن لازمی بناتا ہے۔ جوڑوں کوشادی کے 60 دنوں کے اندرسب رجسٹرارکوشادی کا میمورنڈم جمع کرانا ہوگا۔
طلاق کے لئے یکساں بنیادیں، جن میں ظلم، پرتیاگ (چھوڑدینا) اورباہمی رضامندی شامل ہیں، اس کواس قانون میں شامل کیا گیا ہے۔ بل یہ بھی التزام کرتا ہے کہ پانچ سال سے کم عمرکے بچوں کی تحویل (دیکھ بھال کا اختیار) عام طورپرماں کے پاس ہی رہے گی۔ وراثت کے معاملات میں، مجوزہ قانون وراثت کی جانشینی کے لئے صنفی مساوی وراثت کا ڈھانچہ متعارف کراتا ہے، جس میں شریک حیات، بچوں اوروالدین کووارثوں کی ایک ہی زمرے “کلاس 1” کیٹیگری میں رکھا جاتا ہے۔ یہ ہربالغ اورذہنی طورپردرست فرد کوتحریری اورگواہی کی وصیت کرنے کا قانونی حق بھی دیتا ہے۔
لیو-ان ریلیشن شپ سے متعلق کیا بنایا ضابطہ
یہ قانون لیو-ان ریلیشن کے لئے بھی ضابطہ پیش کرتا ہے، جس کے تحت ایک ماہ کے اندران کا رجسٹریشن لازمی کردیا گیا ہے۔ ایسے تعلقات سے پیدا ہونے والے بچوں کوقانونی مانا جائے گا جبکہ چھوڑے گئے ساتھی عدالتی کے ذریعہ مالی کفالت حاصل کرنے کا حقدارہوگا۔
شادی اورطلاق کا رجسٹرہونا ضروری
مقررہ مدت کے اندرشادیوں، طلاق یا لیو-ان ریلیشنزکورجسٹرنہ کرانے پرجرمانہ لگے گا، جبکہ جعلی دستاویزجمع کرانے پرقید اورجرمانہ دونوں ہوسکتے ہیں۔ مجوزہ قانون آسام لازمی رجسٹریشن آف مسلم میرج اینڈ ڈائیورس ایکٹ 2024 کوبھی منسوخ کرتا ہے۔ تاہم، یوسی سی (یکساں سول کوڈ) کے نفاذ سے پہلے کی جانے والی متعدد شادیاں “بچت کی شق” کے تحت قانونی طورپرمحفوظ رہیں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


