Bharat Express DD Free Dish

Assam UCC

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے صنفی انصاف کے اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون نہ صرف مذہبی آزادیوں پر اثر انداز ہوگا بلکہ خواتین، خاص طور پر بیٹیوں کے وراثتی حقوق کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یہ بل پوری ریاست میں شادیوں اورطلاق کا رجسٹریشن لازمی بناتا ہے۔ جوڑوں کو شادی کے 60 دنوں کے اندر سب رجسٹرار کے سامنے ایک شادی میمورنڈم جمع کرنا ہوگا۔ مجوزہ قانون کا مقصد مذہب پرمبنی قوانین کویکساں ضابطے سے بدلنا ہے، جس سے تمام کمیونٹیزمیں صنفی انصاف، مساوات اورقانونی یکسانیت کو یقینی بنایا جائے۔

بی جے پی کے 'سنکلپ پتر' کو جاری کرتے ہوئے، مرکزی وزیرنرملا سیتا رمن نے کہا، "یہ منشور ایک دہائی کی کامیابیوں پرمبنی ہے۔ میں ایک ایسی ریاست کو دیکھ رہا ہوں، جو اس طرح سے تبدیل ہوئی ہے، جو کانگریس کے 6 دہائیوں کے دور حکومت میں کبھی ممکن نہیں ہوپاتا۔"

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ ہم ایک ایسا جدید اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے والا ماحولیاتی نظام بنا رہے ہیں کہ دنیا بھر میں بسنے والے آسام کے باصلاحیت لوگ واپس آ کر ہمارے ساتھ کام کرنا پسند کر رہے ہیں۔

بی جے پی رہنما نے کہا کہ اگر بدرالدین اجمل انہیں اپنی شادی میں مدعو کرتے ہیں تو میں بھی اس میں شرکت کروں گا لیکن انتخابات کے بعد وہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ قانون سب کے لیے یکساں ہوگا۔

وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کی صدارت میں ریاستی کابینہ کی میٹنگ کے دوران اس کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کے وزیر جینت بروا نے اسے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔

ایک قانونی فریم ورک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا  تھا کہ ملک دوہرے قوانین کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ ان کا خیال ہے کہ یو سی سی آئین کے بنیادی اصولوں اور نظریات کے مطابق ہے۔