Bharat Express DD Free Dish

Assam Assembly Election 2026: آسام میں 126 سیٹوں کے لئے ہوگی ووٹنگ، ہیمنت بسوا سرما کی قیادت میں بی جے پی لگا پائے گی جیت کی ہیٹ ٹرک؟ گوروگوگوئی کا وقار بھی داو پر

آسام کی 126 اسمبلی سیٹوں پرآج ووٹنگ ہوگی۔ سیکورٹی کے سخت انتظامات کے دوران ووٹنگ کرائے جانے کی تیاریاں مکمل ہے۔ بی جے پی جیت کی ہیٹ ٹرک لگانے کے فراق میں ہے تو وہیں کانگریس واپسی کی راہ دیکھ رہی ہے۔

آسام اسمبلی انتخابات 2026 میں ریکارڈ ووٹنگ ہوئی ہے۔

آسام میں جمہوریت کا سب سے بڑا میلہ اب اپنے سب سے فیصلہ کن موڑپرپہنچ گیا ہے۔ ریاست کی سبھی 126 اسمبلی سیٹوں کے لئے 9 اپریل کو ووٹنگ ہونے جا رہی ہے۔ صبح 7 بجے سے شام 5:30 بجے تک ووٹنگ نئی حکومت منتخب کرنے کے لئے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ الیکشن کمیشن اورانتظامیہ نے ووٹنگ کو پُرامن اورمحفوظ بنانے کے لئے پوری تیاریاں کرلی ہیں۔ حالانکہ برسراقتداربی جے پی اور اپوزیشن کانگریس کے درمیان سخت بحث دیکھنے کو ملی ہے۔

الیکشن کمیشن کی تیاری مکمل

آسام کے جغرافیائی حالات کودیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے اس بارخصوصی انتظامات کئے ہیں۔ ریاست بھرمیں ہزاروں پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں، جن میں سے کئی دوردرازاوردریا کے کنارے واقع ہیں۔ کمیشن نے “گلابی بوتھ” کی تعداد میں اضافہ کیا ہے، جن کا عملہ مکمل طورپرخواتین پرمشتمل ہوگا۔ ساتھ ہی، بزرگ شہریوں اورمعذوروں کے لئے گھرسے ووٹ ڈالنے کے لئے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، ساتھ ہی پولنگ اسٹیشنوں پرریمپ اوروہیل چیئرزبھی فراہم کی گئی ہیں۔

سیکورٹی کے سخت انتظامات

آسام میں منصفانہ الیکشن کرانے کے لئے سیکورٹی کے بے حد خاص انتظامات کئے گئے ہیں۔ ریاستی پولیس کے ساتھ ساتھ  سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز(سی آرپی ایف) کی سینکڑوں کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد اوربین ریاستی سرحدوں پرگشت بڑھا دی گئی ہے۔ حساس علاقوں میں ڈرون کے ذریعہ نگرانی رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی طرح کی گڑبڑی کو روکا جاسکے۔

کس پارٹی کے کتنے امیدوار؟

آسام کے انتخابی میدان میں اس باراہم مقابلہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے اورکانگریس کی قیادت والے اتحاد کے درمیان ہے۔ بی جے پی اپنی اتحادی پارٹیوں (اے جی پی اور یوپی پی ایل) کے ساتھ مل کرسبھی سیٹوں پرامیدواراتارے ہیں۔ وہیں کانگریس کے علاوہ بھی آل انڈیا  یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یوڈی ایف) اورمقامی پارٹیوں نے بھی چیلنج پیش کیا ہے۔ آزاد امیدواروں اورنئی علاقائی پارٹیوں نے کئی سیٹوں پرمقابلے کو سہ رخی بنا دیا ہے۔

گزشتہ 15 سالوں کی تاریخ

آسام کی سیاست میں گزشتہ 15 سالوں میں بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ سال 2011 میں ترون گوگوئی کی قیادت میں کانگریس نے مسلسل تیسری بارجیت حاصل کی تھی۔ وہیں سال 2016 میں بی جے پی نے تاریخی جیت درج کی اور سربانند سونے وال کی قیادت میں پہلی بارحکومت بنائی۔ وہیں سال 2021 میں بی جے پی نے اپنے اقتدارکوبرقراررکھا اورڈاکٹر ہیمنتا بسوا سرما وزیراعلیٰ بنے۔ اس طرح سے کانگریس کودوسری باراقتدار سے دوررہنا پڑا۔ اب دونوں اتحاد میں ایک بار پھر سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بی جے پی 2026 میں جیت کی ہیٹ ٹرک لگانے کی کوشش میں ہے جبکہ کانگریس اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس حاصل کرنا چاہتی ہے۔

 بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read