آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی۔ (فائل فوٹو)
حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے وندے ماترم تنازعہ، پارلیمانی سیاست اور بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر کھل کر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے وفاداری کا سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
وندے ماترم تنازعہ پر بات کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ بھارت کا آئین ’’ہم بھارت کے لوگ‘‘ کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ کسی مخصوص نعرے سے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور ہر شخص کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک میں مذہبی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسدالدین اویسی نے واضح کیا کہ حب الوطنی کا تعلق کسی مخصوص نعرے یا عمل سے نہیں بلکہ آئین کی پاسداری سے ہے۔
#WATCH | “…Our Consitution begins with ‘We the people’, not with ‘Bharat Mata ki Jai’…Article 25 of the Constitution guarantees the fundamental right to freedom of religion…Do they want to finish the national anthem?… What about my freedom of religion?… We don’t need… pic.twitter.com/zOTP1cFfwY
— ANI (@ANI) February 14, 2026
انہوں نے اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو بھارت کا سیکولر کردار متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے اور اس کی اصل طاقت اس کی مذہبی اور ثقافتی تنوع میں ہے۔
#WATCH | “This should not be made a test of loyalty…The way the BJP and RSS are taking forward the nation, it will become a theocratic nation…” says AIMIM chief and MP Asaduddin Owaisi in an interview with ANI on the Vande Mataram row
Watch full interview here:… pic.twitter.com/88YXBzySvG
— ANI (@ANI) February 14, 2026
پارلیمانی امور پر بات کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ لوک سبھا اسپیکر کے خلاف پیش کیے گئے عدم اعتماد کی تحریک سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو ان سے اس سلسلے میں مشورہ کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے کسی دستاویز پر دستخط کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے خلاف پیش کیے گئے استحقاق کی تحریک کا بھی کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔
#WATCH | Delhi | “Neither was I asked nor did I sign the no-confidence motion against Lok Sabha Speaker…There is nothing in the privilege motion and nothing will happen”, says AIMIM chief and MP Asaduddin Owaisi in an interview with ANI on the no-confidence motion against Lok… pic.twitter.com/VHE8Goz1cR
— ANI (@ANI) February 14, 2026
آسام کے وزیراعلیٰ کے ایک مبینہ ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ عوامی عہدے پر فائز افراد کو ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات یا اقدامات معاشرے میں غلط پیغام دیتے ہیں اور اس سے عوام کے درمیان تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔
#WATCH | “…That video is genocidal…If I had made that video, imagine what would have happened in the nation…No one is questioning him…He is asking to pay Rs 2 less to an auto driver if he is a ‘Miyan’…Does this kind of language suit the Chief Minister of a state?… Why… pic.twitter.com/wdquJgQaLc
— ANI (@ANI) February 14, 2026
بابری مسجد تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے اسدالدین اویسی نے کہا کہ انہیں اب بھی اس فیصلے سے اختلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ ایک اہم ادارہ ہے، لیکن اختلاف رائے جمہوری عمل کا حصہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
#WATCH | In an interview with ANI on UP CM Yogi Adityanath’s remark, ‘qayamat (doomsday) would never come and the Babri mosque would not be reconstructed’, AIMIM chief and MP Asaduddin Owaisi says, “At least he had to speak an Urdu word, what would be a hindi word for ‘qayamat’.… pic.twitter.com/73yhIonHrf
— ANI (@ANI) February 14, 2026
انہوں نے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ کے بیان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سیاسی لیڈروں کو ذمہ دارانہ زبان استعمال کرنی چاہیے۔ اویسی کے مطابق ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلا جائے اور آئینی اصولوں کا احترام کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

