Bharat Express DD Free Dish

Vande Mataram Controversy

سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی رہنماؤں کی شرکت، مقررین نے کہا - قومی علامتوں کا احترام اپنی جگہ، لیکن کسی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف عمل پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے نائب امیر ملک معتصم خان اور پروفیسر سلیم انجینئر نے حکومت کی طرف سے قومی وقار کی توہین (ترمیمی) بل، 2026 کی منظوری، ملک میں جامع تعلیمی اصلاحات کی ضرورت اورمختلف ریاستوں میں سیلاب کی سنگین صورت حال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدراورسابق رکن پارلیمنٹ مولانا عبیداللہ خان اعظمی نے الزام لگایا کہ دھارکی کمال مولا مسجد اوردیگرتاریخی مساجد اوروقف املاک پرتجاوزات اورتباہی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں دوٹوک الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں: محض رسمی کارروائیوں، رسمی بیانات اورکاغذی کارروائی کا وقت ختم ہوگیا ہے۔

 مغربی بنگال میں اب تمام سرکاری، امداد یافتہ اورغیر منظور شدہ مدارس میں دعائیہ اجتماع کے دوران وندے ماترم گانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مدرسہ ایجوکیشن کے ڈائریکٹرکی طرف سے جاری کردہ حکم میں کہا گیا ہے کہ تمام سابقہ ​​احکامات اورطرزعمل کو منسوخ کرتے ہوئے، تمام مدارس میں کلاسیزشروع ہونے سے قبل دعائیہ کلمات (پریئرمیٹنگ) کے دوران وندے ماترم گانا لازمی ہے۔

مغربی بنگال میں مدارس میں ”وندے ماترم“ گانے کو لازمی قرار دینے کے معاملے پر جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان نے بھی کھل کر اپنی رائے پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے محبت کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے، لیکن کسی مخصوص گیت کو زبردستی گانے پر مجبور کرنا جمہوری اقدار اور آئینی آزادی کے خلاف ہے۔

کانگریس کی دو خاتون کونسلروں کے خلاف معاملہ درج ہوا ہے۔ دونوں کونسلروں نے وندے ماترم گانے سے انکارکردیا تھا۔ پولیس نے جانچ کے بعد دونوں کونسلروں روبینہ اقبال خان اور فوزیہ شیخ علیم کے خلاف دفعہ 196/1 کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے وندے ماترم تنازعہ، پارلیمانی سیاست اور بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر کھل کر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے وفاداری کا سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

وندے ماترم کے مسئلے پر امت شاہ کا یہ سخت بیان نہ صرف ترنمول کانگریس کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن گیا ہے بلکہ آنے والے دنوں میں مغربی بنگال کی سیاست میں نئے تصادم اور انتخابی گہما گہمی کا اشارہ بھی ہے۔ 2026 کے انتخابات کے قریب آتے ہی ریاست میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔