بھارت اور نیپال کے دوطرفہ تعلقات اور خاص طور پر بہار سے جڑے معاملات کے لیے 2 مئی کا دن نہایت اہم ہونے جا رہا ہے۔ اس دن ایک طرف جہاں ملک کی راجدھانی دہلی میں وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں سرحدی سکیورٹی پر اعلیٰ سطحی غور و خوض ہوگا، وہیں دوسری جانب نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں سیلاب کنٹرول اور آبپاشی منصوبوں سے متعلق اہم تنازعات حل کیے جائیں گے۔
امت شاہ کی اہم میٹنگ
مرکزی حکومت بھارت-نیپال سرحد کی سکیورٹی سے متعلق مکمل طور پر الرٹ موڈ میں آ گئی ہے۔ 2 مئی کو دہلی میں وزارتِ داخلہ میں وزیر داخلہ امت شاہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اس اجلاس کا بنیادی مرکز بہار سے ملحق سرحدی علاقوں کی سکیورٹی ہوگا۔ اس اہم میٹنگ میں سرحدی سکیورٹی سے متعلق کئی بڑے فیصلے لیے جا سکتے ہیں۔ اجلاس میں بہار کے چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی (DGP) بھی شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ سیمانچل علاقے کے کئی سینئر افسران بھی شامل ہوں گے، جو سرحد پر دراندازی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق رپورٹ پیش کریں گے۔ امکان ہے کہ بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری بھی اس میٹنگ میں ورچوئلی شریک ہوں۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے نقطۂ نظر سے یہ اجلاس انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
کٹھمنڈو میں JCKGP کی 11ویں میٹنگ
سکیورٹی کے ساتھ ساتھ پانی کا انتظام بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اسی 2 مئی کو بہار حکومت کی پہل پر کٹھمنڈو میں “بھارت–نیپال کوسی اور گنڈک پروجیکٹس کی مشترکہ کمیٹی” (JCKGP) کی 11ویں میٹنگ بھی منعقد ہوگی۔آنے والے مانسون کے دوران بھارت اور نیپال سے گزرنے والی ندیوں میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر یہ میٹنگ بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اس میں دونوں ممالک کے نمائندے مختلف تکنیکی، انتظامی اور مالی امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
ان امور پر ہوگا خاص فوکس
کوسی اور گنڈک منصوبوں سے متعلق دوطرفہ مسائل کا حل
سیلاب سے تحفظ اور آبپاشی نظام کا مؤثر انتظام
کوسی پروجیکٹ علاقے کی سکیورٹی، بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال اور تعمیراتی سامان پر مقامی ٹیکس
کوسی بیراج کے دونوں اطراف بندھوں کے کٹاؤ کا مسئلہ اور مغربی مین نہر کے گیٹ کا آپریشن
نیپال کے علاقے میں سروس روڈ کی دیکھ بھال، تجاوزات کا خاتمہ اور پروجیکٹ عملے کی سکیورٹی
کوسی ٹپّو وائلڈ لائف ایریا سے متعلق مسائل پر بھی بات چیت ہوگی
مجموعی طور پر، 2 مئی کو دہلی سے کٹھمنڈو تک ہونے والی یہ دونوں میٹنگز نہ صرف بھارت-نیپال سفارتی تعلقات کے لیے بلکہ بہار کی سکیورٹی اور کسانوں (سیلاب و آبپاشی) کے مستقبل کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان میٹنگز سے دونوں ممالک کے آئندہ تعلقات کی سمت بھی طے ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

