مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بہار کے ضلع دربھنگہ میں کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل کے ایک حالیہ جلسے میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی مرحوم والدہ کے بارے میں استعمال کی گئی نازیبا زبان پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ امت شاہ نے اس بیان کو نہ صرف قابل مذمت قرار دیا بلکہ اسے ’’جمہوریت پر ایک داغ‘‘ بھی کہا۔ اپنے ایک سخت بیان میں امت شاہ نے کہا کہ ’’بہار کے دربھنگہ میں کانگریس اور آر جے ڈی کے پلیٹ فارم سے عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی آنجہانی والدہ کے لیے جس طرح سے نازیبا زبان استعمال کی گئی، وہ نہ صرف قابل مذمت ہے، بلکہ ہماری جمہوریت پر ایک داغ بھی ہے۔‘‘
وزیر داخلہ امت شاہ نے کانگریس کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے راہل گاندھی پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک غریب ماں کے بیٹے کی کامیابی کو برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے گزشتہ 11 برسوں میں ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا ہے، جو اپوزیشن کو ہضم نہیں ہو رہا۔ وزیر داخلہ نے کہا ’’راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی سیاست اپنی بدترین سطح پر پہنچ گئی ہے… وہ یہ برداشت نہیں کر پا رہی ہے کہ کس طرح ایک غریب ماں کا بیٹا… ملک کو مسلسل آگے لے جا رہا ہے۔‘‘
बिहार के दरभंगा में माननीय प्रधानमंत्री श्री नरेंद्र मोदी जी और उनकी स्वर्गीय माताजी के लिए कांग्रेस और आरजेडी के मंच से जिस प्रकार गालियों से भरी अभद्र भाषा का प्रयोग किया गया है, वह न केवल निंदनीय है, बल्कि हमारे लोकतंत्र को भी कलंकित करने वाला है।
राहुल गांधी के नेतृत्व में…
— Amit Shah (@AmitShah) August 28, 2025
امت شاہ نے مزید کہا کہ گاندھی خاندان نے پی ایم مودی کے خلاف نفرت انگیز مہم ان کے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے دور سے ہی جاری رکھی ہے، لیکن اس نےاب تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ ہر ماں، ہر بیٹے کی توہین ہے، جس کے لیے 140 کروڑ ملک والے انھیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔‘‘ واضح رہے کہ دربھنگہ میں راہل گاندھی کی پدیاترا سے آنے والی ایک ویڈیو نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ ویڈیوں میں ہجوم کو پی ایم مودی کو گالی دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، تاہم اب تک کانگریس کی طرف سے اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

