Bharat Express DD Free Dish

4% reservation for Muslims in Karnataka: کرناٹک میں مسلمانوں کے لیے 4 فیصد ریزرویشن کے درمیان بی جے پی نے اسے ’’کانٹریکٹ جہاد‘‘ کا نام دیا، پارٹی اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی

بی جے پی نے جمعہ کے روز کانگریس پر کرناٹک میں ’’کانٹریکٹ جہاد‘‘ پھیلانے کا الزام لگایا جب ریاستی اسمبلی نے ایک بل منظور کیا جس میں مسلمانوں کے لئے سرکاری کانٹریکٹس میں 4 فیصد ریزرویشن کی اجازت دی گئی ہے۔

بی جے پی نے جمعہ کے روز کانگریس پر کرناٹک میں ’’کانٹریکٹ جہاد‘‘ پھیلانے کا الزام لگایا جب ریاستی اسمبلی نے ایک بل منظور کیا جس میں مسلمانوں کے لئے سرکاری کانٹریکٹس میں 4 فیصد ریزرویشن کی اجازت دی گئی ہے۔ بی جے پی نے اسے او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے دعویٰ کیا کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ریاستی حکومت کے فیصلے کو آگے بڑھای اور وہ اپنی سیاست کو آگے بڑھانے کے لیے مسلم کوٹے کی بیساکھیوں کا استعمال کر رہے ہیں۔

پاترا نے مزید کہا کہ راہل گاندھی صحیح سیاسی فیصلے لینے کے اہل نہیں ہیں، اسی وجہ سے وہ خوشامد کی سیاست کا سہارا لے رہے ہیں اور راہل گاندھی کو ’’اورنگ زیب راہل زیب‘‘ کہا۔ سمبت پاترا نے مزید کہا کہ کرناٹک میں کانگریس حکومت کا یہ فیصلہ صرف ایک آغاز ہے اور یہ آگے چل کر ملک میں تقسیم پیدا کرے گا۔ ساتھ ہی راہل گاندھی اپنی خوشامد کی سیاست کے لیے اقلیتی برادری کو 100 فیصد کوٹہ بھی دے سکتی ہے۔

سمبت پاترا نے کہا کہ سدارامیا کی زیرقیادت حکومت مسلمانوں کے لیے بہت سے اقدامات کر رہی ہے۔ اس نے وقف املاک کے ذریعے ’’زمین جہاد‘‘ اور وقف کی ترقی کے لیے بہت بڑا پیکج پیش کر کے ’’اقتصادی جہاد‘‘ شروع کیا ہے۔ اور جب ریاستی اسمبلی میں پاکستان کے حق میں نعرے لگائے گئے تو وہاں ’’ملک مخالف جہاد‘‘ دیکھا گیا۔ اب یہ ’’کانٹریکٹ جہاد‘‘ شروع کیا گیا ہے۔

پاترا نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اقلیتی برادری کے لیے کئی فیصلوں میں اماموں کو تنخواہ، مسلمانوں کو شادیوں کے لیے مالی امداد، مسلم طلبہ کے لیے فیس میں چھوٹ اور مسلم کالونیوں کی ترقی کے لیے 1,000 کروڑ روپے کی تجویز پیش کی ہے۔ بی جے پی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ یہ ایسی خوشامد کی سیاست ہے جس کی وجہ سے 1947 میں ملک کی تقسیم ہوئی تھی۔ انھوں نے دہرایا کہ ریاستی حکومت کا فیصلہ غیر آئینی ہے اور بی جے پی اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔ ریاستی بی جے پی لیڈروں نے کہا ہے کہ وہ اسے قانونی طور پر چیلنج کریں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read