Bharat Express DD Free Dish

Allahabad High Court On NHRC: مدرسوں کی جانچ پر سختی اور ماب لنچنگ پر خاموشی؟ الہ آباد ہائی کورٹ کی انسانی حقوق کمیشن پر سخت تنقید، اٹھائے کئی اہم سوال

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں مدرسوں کی جانچ کے معاملے پر این ایچ آر سی کی کارکردگی پر سخت اور تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ جب مسلمانوں کے خلاف ماب لنچنگ جیسے سنگین واقعات پیش آتے ہیں تو انسانی حقوق کمیشن خاموش نظر آتا ہے، لیکن مدرسوں کی جانچ کے معاملے میں غیر معمولی سختی اختیار کی جاتی ہے، جو قابل تشویش ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں مدرسوں کی جانچ کے معاملے پر قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کی کارکردگی پر سخت اور تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ جب مسلمانوں کے خلاف ماب لنچنگ جیسے سنگین واقعات پیش آتے ہیں تو انسانی حقوق کمیشن خاموش نظر آتا ہے، لیکن مدرسوں کی جانچ کے معاملے میں غیر معمولی سختی اختیار کی جاتی ہے، جو قابل تشویش ہے۔ یہ ریمارکس جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس وویک سرن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مدرسوں کی جانچ سے متعلق عرضیوں کی سماعت کے دوران دیے۔ عدالت نے این ایچ آر سی کی جانب سے اکنامک آفینس ونگ (ای او ڈبلیو) کو مدرسوں کی جانچ سونپنے کے حکم پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم بادی النظر میں غیر قانونی محسوس ہوتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن کا بنیادی فریضہ انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ ایسے معاملات میں براہ راست مداخلت کرنا جہاں پہلے سے قانونی طریقہ کار موجود ہو۔ بنچ نے واضح کیا کہ اگرچہ کمیشن کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے، لیکن موجودہ معاملے میں اس کی کارروائی حدود سے تجاوز کرتی دکھائی دیتی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب ملک میں اقلیتی طبقے کے خلاف ماب لنچنگ کے واقعات رونما ہوتے ہیں تو کمیشن کی جانب سے وہی سرگرمی اور سنجیدگی نظر نہیں آتی، جو مدرسوں کی جانچ کے معاملے میں دکھائی جا رہی ہے۔ عدالت کے مطابق اس طرح کا رویہ امتیازی سلوک کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ این ایچ آر سی کی ہدایت پر ریاستی حکومت نے 588 امداد یافتہ مدرسوں کی جانچ کا کام ای او ڈبلیو کے سپرد کیا تھا۔ تاہم، ہائی کورٹ نے فوری طور پر اس حکم پر روک لگا دی اور کہا کہ جب تک معاملے کی مکمل سماعت نہیں ہو جاتی، اس وقت تک جانچ کا عمل آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔ عدالت نے اس معاملے میں این ایچ آر سی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے وکیل کے ذریعے عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف واضح کرے۔ ساتھ ہی، عدالت نے مدرسوں کی ای او ڈبلیو کے ذریعے جانچ پر پہلے جاری کردہ عبوری حکم کو برقرار رکھا ہے۔

یہ حکم مدرسہ ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ اور دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے دائر عرضی پر سنایا گیا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ این ایچ آر سی کی جانب سے دیے گئے احکامات غیر قانونی ہیں اور ان سے مدرسوں کے وقار اور خودمختاری کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سماعت کے دوران ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ بنچ کے دونوں ججوں کے درمیان بعض نکات پر اختلاف رائے پایا گیا۔ جسٹس اتل شری دھرن نے اپنے الگ حکم میں این ایچ آر سی پر سخت تبصرے کیے، جبکہ جسٹس وویک سرن نے ان تبصروں کے بعض حصوں سے اختلاف کرتے ہوئے خود کو ان سے الگ کر لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ فیصلے کے پیراگراف 6 اور 7 میں دی گئی رائے سے متفق نہیں ہیں۔

ماہرین قانون کے مطابق، ججوں کے درمیان اس اختلاف کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ آئندہ کسی بڑی بنچ کے سپرد کیا جا سکتا ہے، تاکہ حتمی اور متفقہ فیصلہ سامنے آ سکے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت کے لیے 11 مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس دوران تمام فریقین کو اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد عدالت اس اہم معاملے پر مزید واضح فیصلہ صادر کرے گی۔ یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ سماجی اور سیاسی سطح پر بھی خاصی اہمیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ اس میں انسانی حقوق، مذہبی اداروں کی خودمختاری اور سرکاری اداروں کے اختیارات جیسے حساس موضوعات شامل ہیں۔ عدالت کے حالیہ ریمارکس نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے اور آنے والی سماعت پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read