Bharat Express DD Free Dish

Madarsa

اے پی سی آر نے ریاست کے مختلف علاقوں میں مساجد، مدارس، عیدگاہوں اور مزارات کی انتظامیہ کو مبینہ طور پر فراہم کیے جانے والے سروے فارمس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مغربی بنگال حکومت اور پولیس سے ان کی قانونی حیثیت، مقصد اور اختیار کے بارے میں واضح اور عوامی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں مدرسوں کی جانچ کے معاملے پر این ایچ آر سی کی کارکردگی پر سخت اور تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ جب مسلمانوں کے خلاف ماب لنچنگ جیسے سنگین واقعات پیش آتے ہیں تو انسانی حقوق کمیشن خاموش نظر آتا ہے، لیکن مدرسوں کی جانچ کے معاملے میں غیر معمولی سختی اختیار کی جاتی ہے، جو قابل تشویش ہے۔

شعبہ علماء و مساجد ، جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام آج  ’کل ہند پانچ روزہ اجتماع برائے علماء و فارغین مدارس‘ (جمعرات تا پیر) کا آغاز جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں ہوا۔ اس اجتماع میں ملک کے طول و عرض سے  بڑی تعداد میں آئے ہوئے مختلف مکاتب فکر کےعلماء کرام و فارغین …

اتراکھنڈ حکومت نے ریاست کے مختلف علاقوں، خصوصاً اترپردیش کی سرحد سے متصل علاقوں میں موجود غیر رجسٹرڈ مدرسوں کو ’’سیکیورٹی رسک‘‘ قرار دیا ہے۔

مدرسہ ایجوکیشن کونسل کے رکن قمر علی نے کہا کہ ریاست کے 513 مدارس نے کونسل کو اپنے مدارس کی منظوری کوسرینڈرکرنے کی درخواست دی تھی جس کے پیچھے انہوں نے اپنی اپنی وجوہات بتائی ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی 2 ستمبر سے رکنیت سازی  کی مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔ بڑے پیمانے پر لوگوں کو پارٹی سے جوڑنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں اقلیتی مورچہ کو بھی بڑی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اقلیتی مورچہ کو ملک میں 50 لاکھ ارکان کو شامل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔

پوسٹ مارٹم کے دوران متوفی طالب علم کے جسم میں کئی اندرونی زخم پائے گئے۔ جس میں پھٹا ہوا جگر، معدے سے خون اور دائیں پھیپھڑوں کے اندر خون بہنا شامل ہے۔ ملزم طلباء کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم طلباء کی عمریں 9 سے 11 سال کے درمیان ہیں۔

قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال این سی پی سی آرکے خط و کتابت کی بنیاد پر یوپی حکومت نے26جون 2024 کوہدایت جاری کی ہے کہ امدادیافتہ اور تسلیم شدہ مدارس میں داخل غیر مسلم طلبہ کو علیحدہ کیا جائے اوران کا داخلہ سرکاری اسکولوں میں کیا جائے۔

مدھیہ پردیش حکومت کا ماننا ہے کہ غیر قانونی طور پر چلائے جانے والے مدارس میں نہ صرف جنون کی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ ایسی سرگرمیاں بھی انجام دی جاتی ہیں جو ملک اور معاشرے کے لیے خطرناک ہیں۔

پانچ اساتذہ میں سے ایک اعجاز نے اس واقعے کو اپنی زندگی کا سب سے خوفناک دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دن ان کا نو سالہ بیٹا ٹرین میں بچوں کے ساتھ تھا۔ اعجاز کہتے ہیں کہ جب ہمیں ریلوے سٹیشنوں پر حراست میں لیا گیا تو انہوں نے ہمارے بیگ چیک کیے اور کہا کہ ہم چرس اور گانجہ (منشیات) اسمگل کر رہے ہیں۔