Bharat Express DD Free Dish

Maulana Badruddin Ajmal on Muslims Politics: ”مسلمان پورے ملک میں محفوظ،، ان کے ساتھ ہندو ہیں…“ الیکشن سے پہلے مولانا بدرالدین اجمل کے بیان کا کیا ہے سیاسی مطلب؟

اے آئی یوڈی ایف سربراہ مولانا بدرالدین اجمل نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمان محفوظ ہیں اور ہندووں کی حمایت ہے۔ سال 2024 کی ہارکے بعد اے آئی یوڈی ایف اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ کیونکہ اسمبلی الیکشن سے پہلے کانگریس نے اس سے دوری بنالی ہے، جس سے آسام میں مسلم ووٹوں کی تقسیم کا خطرہ ہے۔

اے آئی یو ڈی ایف سربراہ مولانا بدرالدین اجمل۔ (فائل فوٹو)

آسام کی سیاسی پارٹی آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یوڈی ایف) کے سربراہ اورسابق رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمان پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ ہندوان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کی ’میاں والی سیاست‘ پرتنقید کی اورمسلمانوں سے بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کی۔ آپ کوبتا دیں کہ لفظ ’میاں‘ ایک طنزیہ اصطلاح ہے، جوآسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

مولانا بدرالدین اجمل نے کہا کہ مسلمان پہلے سے کہیں زیادہ پورے ملک میں محفوظ ہیں۔ انہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہندو بھائی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرایک ہیمنتا چلاتا ہے تو جنگل خالی نہیں ہوجاتا۔ اسے میاں، میاں چلانے دو۔ انہوں نے کانگریس پراقلیتی رائے دہندگان کے ساتھ دوہرا کھیل کھیلنے کا الزام بھی لگایا۔ بالائی آسام میں کانگریس لیڈرگوروگوگوئی اورراجوردل کے سربراہ اکھل گوگوئی کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی حلقوں پران کی توجہ نے بی جے پی کوواضح اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا، “چاہے وہ کانگریس ہویا راجوردل، ان کی توجہ ان اقلیتی ووٹروں پرہے۔”

کانگریس نے اے آئی یوڈی ایف سے بنائی دوری

آسام کے دھبری کے سابق رکن پارلیمنٹ نے کانگریس کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مارچ یا اپریل میں ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے دوران اپنے روایتی چائے باغان سیٹوں کونظراندازکرتے ہوئے بی جے پی کو100 فیصد واک اووردے دیا۔ انہوں نے خدشہ ظاہرکیا کہ کانگریس ریاست کی 126 میں سے 23 سیٹیں بھی نہیں جیت پائے گی۔ انہوں نے کانگریس پراقلیتوں کے ساتھ گندہ کھیل کھیلنے کا الزام لگایا۔ اے آئی یوڈی ایف اورکانگریس 2006 کے اسمبلی الیکشن سے ہی مسلم اکثریتی سیٹوں پرووٹ شیئرکے لئے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی ووٹوں کی تقسیم سے برادری کو زبردست نقصان ہوگا۔

واضح رہے کہ کانگریس نے اسمبلی الیکشن میں اے آئی یوڈی ایف کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے انکارکردیا ہے۔ اے آئی یو ڈی ایف کو کانگریس، بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ قراردے رہی ہے۔ کانگریس کے انکارکے بعد اب اے یوآئی ڈی ایف اسمبلی الیکشن میں اپنے وجود کو بچانے کی لڑائی لڑ رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read