Bharat Express DD Free Dish

Assam Congress

سروے کے مطابق 126 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو 88 سے زائد نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو اسے باآسانی اکثریت کی حد سے آگے لے جاتا ہے۔ دوسری جانب انڈین نیشنل کانگریس کو تقریباً 31 نشستیں ملنے کی امید ہے، جبکہ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کو 4 نشستیں مل سکتی ہیں۔ دیگر امیدواروں کے حصے میں 3 نشستیں جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

گوگوئی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں ریاست کی سیاست کا معیار اس حد تک گر چکا ہے کہ باہر جا کر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاست کو صاف ستھرا بنانے کے لیے آگے آئیں اور بہتر نظام کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔

آسام میں ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس پارٹی کو مسلسل بڑے جھٹکوں کا سامنا ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران پارٹی کے پانچ اہم لیڈروں نے استعفیٰ دے کر سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے، جس سے ریاست میں کانگریس کی پوزیشن کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے۔

آسام میں آئندہ انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں اور ریاستی سیاست میں کانگریس کی حکمت عملی پر قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کانگریس کے ریاستی صدر گورو گوگوئی کے ممکنہ طور پر ایک اہم نشست سے الیکشن لڑنے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی اعلان ابھی باقی ہے۔

آسام کانگریس کے سابق صدر بھوپین کمار بورا نے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ان کے بی جے پی میں شمولیت کے قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ اس موقع پر اے آئی یو ڈی ایف نے کانگریس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی میں بی جے پی کے ایجنٹس موجود ہیں اور بورا کی جانب سے اتحاد توڑا گیا۔

کانگریس لیڈروں کا ماننا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما ہیں، جن کی تنظیم پر مضبوط گرفت ہے۔ ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ وہ انتہائی چالاک حکمتِ عملی ساز ہیں۔ ان کا زمینی نیٹ ورک مضبوط ہے اور ہماری کمزور نشستوں پر خاص نظر ہے۔ اس لیے زمینی مقابلے کے لیے مکمل تیاری کرنا ہوگی۔

اے آئی یوڈی ایف سربراہ مولانا بدرالدین اجمل نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمان محفوظ ہیں اور ہندووں کی حمایت ہے۔ سال 2024 کی ہارکے بعد اے آئی یوڈی ایف اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ کیونکہ اسمبلی الیکشن سے پہلے کانگریس نے اس سے دوری بنالی ہے، جس سے آسام میں مسلم ووٹوں کی تقسیم کا خطرہ ہے۔

آسام حکومت کی بھتہ اسکیموں پر سخت تنقید کرتے ہوے کانگریس پارٹی نے کہا ہے  کہ انتخابات سے پہلے بی جے پی ووٹرروں کو نئی اسکیم سے رشوت دے رہی ہے۔

سرما نے کہا کہ ’’یہ حیرت کی بات ہے کہ وہ راہل گاندھی یا انڈین نیشنل کانگریس کی پوسٹس پر تبصرہ یا لائیک نہیں کرتے ہیں۔ وہ صرف ایک خاص لیڈر اور آسام کانگریس پر ہی توجہ دیتے ہیں۔‘‘