Bharat Express DD Free Dish

CM Himanta Biswa Sarma’s big claim: ’’مسلم ممالک سے چلائے جا رہے 5000 سے زیادہ اکاؤنٹس آسام کانگریس کے لیے سرگرم‘‘، وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے کیا بڑا دعویٰ

سرما نے کہا کہ ’’یہ حیرت کی بات ہے کہ وہ راہل گاندھی یا انڈین نیشنل کانگریس کی پوسٹس پر تبصرہ یا لائیک نہیں کرتے ہیں۔ وہ صرف ایک خاص لیڈر اور آسام کانگریس پر ہی توجہ دیتے ہیں۔‘‘

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے جمعہ کے روز الزام لگایا کہ 5000 سے زیادہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جو زیادہ تر ’’اسلامی ممالک‘‘ سے چلائے جاتے ہیں، آسام کانگریس کے حق میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم سرما نے دعویٰ کیا کہ ان اکاؤنٹس میں سے زیادہ تر ’’بنگلہ دیش اور پاکستان سے چلائے جا رہے ہیں‘‘ تاہم ان میں ’’47 مسلم ممالک‘‘ سے چلائے جانے والے اکاؤنٹس شامل ہیں۔

ہیمنتا بسوا سرما نے دعویٰ کیا کہ خاص طور پر آسام کانگریس کے ایک خاص لیڈر اور پارٹی کی ریاستی اکائی کے صفحات پر یہ پانچ ہزار اکاؤنٹس گزشتہ ماہ سے خصوصی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ سرما نے کہا کہ ’’یہ حیرت کی بات ہے کہ وہ راہل گاندھی یا انڈین نیشنل کانگریس کی پوسٹس پر تبصرہ یا لائیک نہیں کرتے ہیں۔ وہ صرف ایک خاص لیڈر اور آسام کانگریس پر ہی توجہ دیتے ہیں۔‘‘

نام لیے بغیر گورو گوگوئی کو بنایا نشانہ

سی ایم سرما نے کہا کہ آسام کے معاملات کے علاوہ وہ ’’اسلامی بنیاد پرست مواد‘‘ پوسٹ کرتے ہیں، بشمول فلسطین، ایران، اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کے حوالے سے۔ اگرچہ آسام کے وزیر اعلیٰ نے ’’خاص کانگریس لیڈر‘‘ کا نام نہیں لیا، لیکن ان کا اشارہ کانگریس لیڈر گورو گوگوئی کی طرف ہے، جنھیں گزشتہ ماہ مئی میں آسام پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔ پچھے کچھ مہینوں سے ہیمنتا بسوا سرما گورو گوگوئی پر پاکستان سے تعلقات کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔

سی ایم سرما نے مزید الزام لگایا کہ ’’ایسا پہلی بار ہے ہوا ہے کہ 2026 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے آسام کی سیاست میں اتنی زیادہ غیر ملکی مداخلت ہوئی ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو بھی اس مسئلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور اسے ’’قومی سلامتی‘‘ کا معاملہ قرار دیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read