اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے ناگپور تشدد سے متعلق جمعہ کو مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فڑنویس حکومت صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اویسی نے فلم ’چھاوا‘ کوتشدد بھڑکانے کے لئے قصوروارٹھہرائے جانے سے متعلق بھی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے تشدد کے لئے وزیراعلیٰ دیویندرفڑنویس کوذمہ دارٹھہرایا ہے۔
حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے ایک جلسے کو خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مہاراشٹر حکومت کے ایک وزیر نے مغل بادشاہ اورنگ کی قبرہٹانے کے بارے میں اشتعال انگیزبیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ کیا کررہے تھے؟ کیا ناگپورآپ کا شہرنہیں ہے؟ انہوں نے آیات والی چادرجلائی، لیکن آپ کہتے ہیں کہ اس کے لئے ایک فلم ذمہ دار ہے۔‘‘
یہ آپ کے انٹلی جنس سسٹم کی ناکامی ہے: اویسی
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا کہ آپ کیا کررہے تھے؟ یہ آپ کی حکومت، آپ کی پولیس اور آپ کے خفیہ انٹلی جنس کی ناکامی ہے۔ اگرلاء اینڈ آرڈرکی صورتحال پیدا ہوئی ہے تواس کے لئے آپ ذمہ دارہیں۔ انہوں نے کہا تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قرآنی آیات والی چادرچلائی گئی، کارروائی کے لئے شکایت کی گئی تھی اور بعد میں تشدد بھڑک اٹھی۔ یہ آپ کی پولیس اورآپ کے خفیہ انٹلی جنس کی ناکامی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے چادرنذرآتش کرنے کے لئے ذمہ دار لوگوں کو تھانے سے ضمانت دے دیتی ہے۔ اویسی نے آرایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ت شدد کو ناقابل قبول بتاتے ہیں، لیکن براہ راست اس کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہ کہ آپ پردے کے پیچھے سے پوری سازش کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم پانی ڈالیں گے۔
اب تک 105 افراد کی ہوئی گرفتاری
واضح رہے کہ 17 مارچ کوناگپورمیں تشدد بھڑک اٹھا تھا، جب مغل حکمراں اورنگ زیب کے مقبرہ کوہٹانے کے مطالبہ سے متعلق وشوہندوپریشد اوربجرنگ دل نے احتجاج کیا تھا۔ اس دوران قرآنی آیات والی چادر جلانے کی بات سامنے آئی تھی، جس کے بعد مسلم طبقے کے لوگ برہم ہوگئے اور وہ جمع ہوگئے۔ پولیس کے سمجھانے کے بعد معاملہ ختم ہوگیا، لیکن رات ہونے کے بعد پھرتشدد بھڑک گیا۔ اس دوران پتھراؤ اورآگ زنی بھی کی گئی، جس میں عام لوگوں کے ساتھ 33 پولیس اہلکارزخمی ہوئے۔ اس معاملے میں اب تک کل 105 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


